Can't connect right now! retry

پاکستان
15 فروری ، 2020

رانا ثناء کی گاڑی مال مقدمے کے طور پر اے این ایف کے پاس موجود رہے گی: عدالت

فائل فوٹو: رانا ثناء اللہ

لاہور: انسداد منشیات کی عدالت نے رانا ثناء اللہ کی گاڑی کی سپردگی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا جب کہ نیب نے لیگی رہنما کو ایک بار پھر طلب کرلیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے انسداد منشیات کی عدالت میں دو درخواستیں دائر کی تھیں جن میں انہوں نے عدالت سے اے این ایف کے پاس موجود ان کی گاڑی اور کیس سے متعلق ویڈیو فراہم کرنے کی استدعا کی تھی لیکن عدالت نے ان کی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔

انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر حسن نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ پراسیکیوشن کا الزام ہے کہ ملزم گاڑی میں ہیروئن رکھ کر سفر کررہا تھا اور ملزم کی گاڑی سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی۔

عدالت نے تحریری حکم میں کہا ہےکہ اے این ایف کے قانون کے مطابق گاڑی ملزم کو فراہم نہیں کی جا سکتی، رانا ثناءاللہ کی گاڑی مال مقدمے کے طور پر اے این ایف کے پاس موجود رہے گی لہٰذا ملزم کی گاڑی سپرد کرنے کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔

رانا ثناء ایک بار پھر نیب میں طلب

دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) نے رانا ثناءاللہ کو ایک بار پھر طلب کرلیا ہے۔

نیب نے رانا ثناءاللہ کو 19 فروری کو پیش ہونے اور  فیملی اراکین کی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات ہمراہ لانے کی ہدایت کی ہے۔

نیب کی جانب سے 2 جنوری کو جمع کروائے گئے اثاثہ جات پر فارما سے متعلق بھی وضاحت مانگی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ  جائیدادوں کو بنانے کے لیے سورس آف انکم کیا تھا اس کی بھی تحریری وضاحت دیں۔

رانا ثناء اللہ سے کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمائے کی سورس، فیملی کے دیگر اراکین کے اثاثے کتنے ہیں اور ان میں کتنا اضافہ ہوا،  فیملی اراکین کو تحائف کی صورت میں کیا کیا دیا اور   جو تحائف دئیے اس رقم کا سورس کیا تھا جب کہ  جن کاروبار میں شراکت داری ہے اس سے متعلق بھی تفصیلاً تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔

رانا ثناء کیس کا پسِ منظر

انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔

رانا ثناء اللہ نے عدالت سے رجوع کیا اور پھر 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

رانا ثناء اللہ کی جانب سے 10، 10 لاکھ روپے کے دو حفاظتی مچلکے جمع کرائے جانے کے بعد 26 دسمبر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر اپنی بے گناہی ثابت کی تھی اور ساتھ ہی اپنے خلاف کیس بنانے والوں کو بدعائیں بھی دی تھیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران رانا ثناء اللہ اور وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کے درمیان قرآن پاک پر حلف اٹھانے کے معاملے پر گرما گرمی ہوئی تھی۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM