امریکا کا میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار

امریکا نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکا کی نائب معاون وزیر خارجہ برائےجنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز  نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے پاکستان کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی کے مالک کی گرفتاری کو تشویش کے ساتھ نوٹ کیا ہے۔

ایلس ویلز نے مزید کہا کہ میڈیا کی آزادی، شفاف قانونی عمل اور قانون کی حکمرانی ہر جمہوریت کے لیے ستون ہے۔

امریکا کے علاوہ دیگر عالمی صحافتی تنظیموں اور اداروں نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی نیب کے اس اقدام پر اظہار افسوس کرتے ہوئے  شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 34 برس قبل مبینہ طور پر حکومتی عہدے دار سے غیرقانونی طور پر جائیداد خریدنے کے کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کوحراست میں لیا ہے جس کے تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں۔

ترجمان جنگ گروپ کا مؤقف

ترجمان جنگ گروپ کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔

ترجمان جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے یہ پراپرٹی پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی، میر شکیل الرحمان اس کیس کے سلسلے میں دو بار خود نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے، دوسری پیشی پر میر شکیل الرحمان کو جواب دینے کے باوجود گرفتار کر لیا گیا، نیب نجی پراپرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسےگرفتار کر سکتا ہے؟ میر شکیل الرحمان کوجھوٹے، من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا، قانونی طریقے سے سب بےنقاب کریں گے۔ مزید پڑھیں۔۔

پس منظر

جنگ گروپ کیخلاف تمام الزامات چاہے وہ 34 سال پرانے ہوں یا تازہ، سب قانونِ عدالت کے سامنے چاہے وہ برطانیہ کی ہو یا پاکستان کی، جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں۔

جنگ گروپ پر بیرونِ ممالک سے فنڈز لینے، سیاسی سرپرستوں سے فنڈز لینے، غداری، توہین مذہب اور ٹیکس وغیرہ سے متعلق تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں۔

جنگ گروپ کے اخبارات، چینلز کو بند کیا گیا، رپورٹرز، ایڈیٹرز اور اینکرز کو مارا گیا، قتل کیا گیا، پابندی عائد کی گئی، بائیکاٹ کیا گیا لیکن ہم آج بھی عزم کے ساتھ کھڑے ہیں اور سچ کی تلاش کی ہماری کوشش جاری رہے گی۔

نیب کو شکایت کرنے والا شخص جعلی ڈگری بنانے والی کمپنی کیلئے کام کرتا ہے اور اس کمپنی کی ایک میڈیا کمپنی بھی ہے جوکہ بین الاقوامی طور پر بارہا بے نقابل ہوچکی ہیں۔

جنگ گروپ اس شکایت کنندہ کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ جیت چکا ہے اور یہ شخص متعدد دیگر فوجداری اور ہتک عزت کے کیسز میں قانونی چارہ جوئی بھگت رہا ہے۔ انشاء اللہ ہم ان تمام کیسز میں بھی سرخرو ہوں گے۔

مزید خبریں :