Can't connect right now! retry

فرانس میں کورونا وائرس نومبر 2019 سے ہی موجود تھا، رپورٹ

فرانس میں ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 26 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں— فوٹو:فائل

2019 کے  آخر  میں چین میں  باضابطہ طور پر کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں 40 لاکھ سے زائد افراد متاثرہ اور پونے تین لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)  کے مطابق چین  کی جانب سے 31جنوری 2019کو پہلی مرتبہ باضابطہ طور پرکورونا وائرس کی وبا کے متعلق آگاہ کیاگیا حالانکہ وائرس اس سے پہلے بھی چین میں موجود تھا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلا جہاں مبینہ طور پر یہ وائرس چمگادڑ سے پھیلا ہے تاہم  انسان میں یہ وائرس کس طرح یا کس جانور سے ہوتا ہوا منتقل ہوا یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

دوسری جانب فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فرانس میں کورونا وائرس 16 نومبر سے پہلے بھی موجود تھا۔

یہ انکشاف ایک فرانسیسی اسپتال کے ایکسرے ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یکم نومبر 2019 سے 30 اپریل 2020 تک ڈھائی ہزار افراد کے سینے کے ایکسرے نتائج کے جائزے سے سامنے آیا ہے۔

یہ جائزہ عالمی ادارہ صحت کے مشورے پر کیا گیا تھا جس میں ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے پھیلاؤ سے متعلق جاننے کے لیے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ گذشتہ سال کے  آخر سے نمونیا اور اس سے ملتے جلتے امراض کے مریضوں کی رپورٹس کا جائزہ لیں۔

ایکسرے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس نومبر سے ہی فرانس میں گھوم رہا تھا اور ایکسرے نتائج کے مطابق کورونا کا پہلا مریض 16 نومبر کو سامنے آچکا تھا اور بعد ازاں کرسمس اور دیگر تقریبات کے باعث یہ پورے ملک میں تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔

خیال رہے کہ فرانس میں کورونا کا پہلا باضابطہ کیس 24 جنوری کو سامنے آیا تھا اور اب تک وہاں ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 26 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM