Can't connect right now! retry

کھیل
14 جنوری ، 2021

عامرکا مصباح الحق اور وقار یونس کی کوچنگ میں کھیلنے سے صاف انکار

‏فاسٹ بولر محمد عامر نے واضح کیا ہےکہ کوچز مصباح الحق اور وقار یونس کچھ بھی وضاحت دیں ان کے ساتھ کبھی نہیں کھیلوں گا۔

لاہور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا تھا کہ کوچ اور کپتان میرے معاملے کو کہیں اور لےکر جانے کی کوشش کر رہے ہیں،میں نے اپنی پرفارمنس اور ٹیم سے ڈراپ ہونے پر تو ریٹائر منٹ لی نہیں میرے کرکٹ سے الگ ہونے کی وجہ کچھ اور ہے۔

‏ محمد عامر نےکہاکہ وقار یونس بھائی نےگزشتہ روز کہا کہ میرے بیانات سے انہیں دکھ ہوا ہے، مجھے خوشی ہے کہ انہیں کچھ احساس تو ہوا کہ کسی کے بیانات کسی کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں، میں نے تو غلط کچھ نہیں کہا میں نے تو سچ بولا جس کا انہیں افسوس ہوا ۔ 

انہوں نے کہا کہ جب آسٹریلیا کے خلاف سیریز ختم ہو ئی تو کبھی انہوں نے کہا کہ محمد عامر دھوکا دے گیا،کبھی یہ کہا کہ عامر ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ہی نہیں چاہتا یہ ورک لوڈ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ وہ بیانا ت تھے جن سے مجھے دکھ پہنچ رہا تھا جو مجھے ذہنی ازیت دے رہے تھے ۔

فاسٹ بولر نے کہا کہ مجھے سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ میں ڈومیسٹک میں جاتا پرفارم کرتا اور ٹیم میں آجاتا ،کرکٹر کو خود علم ہوتا ہے کہ اس نے کہاں کھیل کر واپس آنا ہے ،ڈومیسٹک کھیلنا ہے یا لیگ کھیلنی ہے ، جہاں تک صبر کی بات ہے تو مجھ سے بہتر صبر کرنا کوئی نہیں جانتا، میں نے کرکٹ کھیلنے کے لیے 5 برس انتظار کیا ہے، میں پانچ برسوں میں تب ہمت نہیں ہارا تھا جب میں بال کو ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا اب میں کیسے ہمت ہار سکتا تھا کہ اگر پرفارم نہیں ہو رہا تو میں کرکٹ چھوڑ دوں ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کتنے ہی لیجنڈز ہیں جن کے پندرہ، پندرہ کم بیک ہوئے ہیں ۔یونس خان بھائی کو ہم اس وقت لیجنڈ کہتے ہیں، ان کے کم بیک ہوئے، یوسف بھائی اور شاہد بھائی کے کم بیک ہوئے، جب ہم کرکٹ شروع کرتے ہیں تو تب ہم یہی سیکھتے ہیں کہ پرفارم کریں گے تو ٹیم میں رہیں گے ۔

‏ محمد عامر نے کہا کہ اگر یہ پرفارمنس کی بات کرتے ہیں تو بنگلا دیش پریمیئر لیگ میں جب میں 21 وکٹیں لیتا ہوں تو اگلے روز مجھے ڈراپ کر دیا جاتا ہے، اگر ذاتی ایشو نہیں تھا تو مجھے بتاتے ۔مجھے کہا جاتا ہے کہ میں نے چار ،پانچ میچز میں پرفارمنس نہیں دی، یہاں ایسے بھی ہیں جنہیں ایک پرفارمنس پر کھلا دیاجاتا ہے اور پھر کچھ نہ ہو تو گھر بھیج دیاجاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مصباح الحق نے کہا کہ میری اسپیڈ میں کمی آرہی تھی،میری فٹنس کی وجہ سے میری اسپیڈ میں کمی آئی اور اس کا میں نے بتایا بھی تھا اور جب میں ابھی سری لنکا میں تازہ دم تھا تو میں 145 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی بولنگ کی ہے۔

‏محمد عامر نے کہا کہ مجھے اپنی صلاحیتیوں پر اتنا یقین ہے کہ میں کم بیک کر سکتا ہوں، اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، پہلے آپ سہنٹرل کنٹریکٹ سے یہ کہہ کر باہر کرتے ہیں کہ تینوں فارمیٹس والوں کو رکھنا ہے ،آپ نے ایک ایک فارمیٹ والوں کو کنٹریکٹ دیا میں تو تب بھی نہیں بولا، پھر آپ نے کہا کہ ٹور پر ان کو لے کر جانا ہے جو سب فارمیٹس میں دستیاب ہیں، میں پھر بھی خاموش رہتا ہوں ،جب میں لیگ کھیلنے جاتا ہوں تاکہ پرفارمنس دوں تو آپ کہتے ہیں کہ محمد عامر نے ورک لوڈ سے نہیں چھوڑا ،وہ لیگ کھیلنا چاہتا ہے وہ تو ٹیسٹ کھیلنا ہی نہیں چاہتا۔

‏ محمد عامر نے کہا کہ میں ان کوچز کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ نہیں کھیل سکتا ، ایک کوچ کہتا ہے کہ اسپیڈ سے فرق نہیں پڑتا 20 آؤٹ کرنے ہیں ، ایک کوچ کہتا ہے کہ عامر کی اسپیڈ کم ہو رہی تھی اس لیے ڈراپ کیا ، ان کوچز کی تو آپس میں ہی نہیں بنتی کہ کہنا کیا ہے ، پہلے خود سوچ لیں کہ کہنا کیا ہے پھر عامر کو سبق پڑھا لیں ۔ 

فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ  یہ کہتے ہیں کہ عامر ڈومیسٹک میں پرفارمنس دیں تو واپس آجائیں میں کہوں گا کہ یہ پہلے اپنی پرفارمنس درست کر لیں ،پہلے ٹیم کو دیکھیں کہ کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے ، مجھے علم ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے، اب سب مل کر کورونا وائرس کا بہانہ بنا رہے ہیں ، کوویڈ تو سب ٹیموں کے لیے تھا ، میں ریٹائر منٹ لے چکا ہوں ،میں اس مینیجنٹ کے ساتھ  کبھی نہیں کھیلوں گا ، یہ میرا حتمی فیصلہ ہے ، ان کوچز سے کہوں گا کہ اس مائنڈ سیٹ کو تھوڑا تبدیل کرلیں تاکہ نوجوان کرکٹرز اچھا پرفارم کر سکیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM