Can't connect right now! retry

پاکستان
23 فروری ، 2021

اسکولوں اور کام کی جگہوں پر بچوں کو جسمانی سزا کیخلاف قومی اسمبلی میں بل منظور

اسکولوں اور کام کی جگہوں پر بچوں کو جسمانی سزا کے خلاف قومی اسمبلی میں بل منظور کرلیا گیا۔

بچوں پر تمام قسم کے تعلیمی اداروں اور کام کرنے والی جگہوں پر تشدد کی ممانعت ہوگی، بچوں کو تھپڑ مارنا، چابک، چھڑی، جوتے، لکڑی یا چمچے سے پٹائی کرنا تشدد کہلائے گا۔

ٹھڈا مارنا، جھنجھوڑنا، دانتوں سے کاٹنا، بالوں سے پکڑنا، کان کھینچنا، بچوں کو تکلیف دہ حالتوں میں رکھنا، ابلتا پانی ڈالنا بھی تشدد ہوگا۔

بچوں سے ہتک آمیز رویہ، اہانت، بدنام کرنا، دھمکانا اور خوف زدہ کرنا قابل سزا ہوگا۔ بچوں پر تشدد کرنے والے کو ملازمت میں تنزلی، معطلی، برخاستگی اور جبری ریٹائر کیا جائے گا۔

بل کے مطابق بچوں پر تشدد کا مرتکب شخص مستقبل میں کسی ملازمت کا اہل تصور نہ ہوگا۔ بل کا اطلاق فی الحال وفاقی دارالحکومت میں ہوگا۔

مسلم لیگ ن کی رکن مہناز اکبر عزیز نے بل ایوان میں پیش کیا۔ اس حوالے سے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ہمیں اس بل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

بل میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ ترمیم بھی شامل کی گئی۔

شیریں مزاری نے بتایا کہ اس ترمیم کا فائدہ یہ ہوگا کہ شکایت عدالت میں درج کی جا سکےگی،  پہلے بل میں کہا گیا تھا کہ شکایت حکومت کی قائم کردہ کمیٹی میں کی جا سکے گی، بل میں ترمیم کی ہے شکایت براہ راست عدالت میں کی جا سکے گی۔

اس حوالے سے معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کا کہنا ہے کہ بہت اچھی بات ہے بل کو حکومت اوراپوزیشن نے مل کرمنظور کرایا،  دو دن پہلے اسد قیصر اور شیریں مزاری سے بھی ملاقات کی تھی،  بچوں کی سب سے پہلے پٹائی گھرمیں ہوتی ہے، گھرکے بعد اسکول میں بچے کی پٹائی ہوتی ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM