Geo News
Geo News

Time 06 اگست ، 2021
کھیل

بیلاروس کی خاتون ایتھلیٹ پر دباؤ ڈالنے والے دونوں کوچز ایونٹ سے باہر

ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والی ایک بیلاروسی ایتھلیٹ کو زبردستی ٹوکیو چھوڑنے پر مجبور کرنے والے دو کوچز کی ایکریڈیشن ختم کردی گئی جس کے بعد انہیں اولمپک ولیج چھوڑنا پڑا— فوٹو: رائٹرز/ فائل
ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والی ایک بیلاروسی ایتھلیٹ کو زبردستی ٹوکیو چھوڑنے پر مجبور کرنے والے دو کوچز کی ایکریڈیشن ختم کردی گئی جس کے بعد انہیں اولمپک ولیج چھوڑنا پڑا— فوٹو: رائٹرز/ فائل

ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے والی ایک بیلاروسی ایتھلیٹ کو زبردستی ٹوکیو چھوڑنے پر مجبور کرنے والے دو کوچز کی ایکریڈیشن ختم کردی گئی جس کے بعد انہیں اولمپک ولیج چھوڑنا پڑا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بیلاروس کی 24 سالہ اسپرنٹر کرسٹینا سیمانوس کایا کو اس وقت دنیا کی توجہ ملی جب انہوں نے اپنے کوچز کا حکم نہ مانتے ہوئے ٹوکیو سے بیلاروس واپس جانے سے انکار کردیا۔

کوچز کے مجبور کرنے پر وہ ٹوکیو ائیرپورٹ تک تو گئیں لیکن وہاں پولیس کی مدد لی اور پھر پولینڈ نے انہیں پناہ دی جس کے بعد وہ پولینڈ پہنچ چکی ہیں۔

بیلاروسی بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کرسٹینا کو نیشنل ٹیم سے اس لیے نکالا گیا  کیونکہ ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں جبکہ کرسٹینا نے اس بات کی تردید کرتے ہوئےکہا کہ انہیں اپنے سوشل میڈیا پیج پر کوچز کی غفلت سے متعلق آگاہ کرنے پر ٹیم سے نکالا گیا  ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے معاملات کا نوٹس لیتے ہوئے بیلاروس کے کوچز آرتھر شمک  اور یوری میسوک کی ایکریڈیشن منسوخ کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اولمپکس ولیج چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ آئی او سی کی جانب سے کرسٹینا کو اپنا ایتھلیٹکس کیریئر  پولنڈ میں جاری کرنے میں مدد کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔

دوسری جانب آئی او سی کا  کہنا ہے کہ دونوں کوچز کو اپنی وضاحت دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا، انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کی بہبود و فلاح کیلئے کام کیا ہے جبکہ  ڈسلپنری کمیشن  اس واقعے کا جائزہ لیتے ہوئے تحقیقات  کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ کرسٹینا پر  پریشانی کا پہاڑ اس وقت ٹوٹا جب انہوں نے ٹوکیو میں اپنے کوچز پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ٹیم ایونٹ کی دوڑ میں شامل کیے جانے سے قبل آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ  کرسٹینا کا شمار ان بیلاروسی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے صدارتی انتخابات کے بعد مظاہرین کے خلاف تشدد پر کھُلی تنقید کی تھی۔