دنیا
Time 29 اگست ، 2021

داعش حملے کے بعد کابل ائیرپورٹ کے قریب دھماکا کیوں ہوا؟ امریکی حکام نے بتا دیا

دھماکا ایک کنٹرول ڈیٹونیشن تھا،امریکی حکام__فوٹو فائل
دھماکا ایک کنٹرول ڈیٹونیشن تھا،امریکی حکام__فوٹو فائل

واشنگٹن: امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکا نے کابل میں سی آئی اے کے آخری اڈے ایگل بیس کو تباہ کر دیا ہے تاکہ جدید آلات اور  اہم معلومات طالبان کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔

جمعرات کو کابل ائیر پورٹ پر داعش کے خودکش حملے کے چند گھنٹے بعد ایک اور دھماکے کی آواز ائیر پورٹ کے قریب ہی سنی گئی تھی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ یہ دھماکا امریکی افواج کی جانب سے اپنے آلات کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

امریکی حکام نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ دھماکا ایک کنٹرول ڈیٹونیشن تھا جس نے ایگل بیس کو تباہ کر دیا تھا جو کہ افغانستان کی 20 سالہ جنگ کے دوران انسداد دہشت گردی کی تربیت کے لیے استعمال کی گئی۔

دھماکے کا کیا مقصد تھا؟

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ کوئی سامان یا معلومات طالبان کے ہاتھوں میں نہ جائے۔

سی آئی اے کے ایک سابق کنٹریکٹر نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ بیس کو کلیئر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، دستاویزات کو جلانے اور ہارڈ ڈرائیوز کو ختم کرنے کے علاوہ حساس آلات کو تباہ کرنے کی ضرورت تھی تاکہ یہ طالبان کے ہاتھ میں نہ آ جائیں۔

مذکورہ اہلکار کے مطابق ایگل بیس کسی سفارت خانے کی طرح نہیں تھا جہاں دستاویزات جلدی سے اور  باآسانی جلائی جاسکتی تھیں۔

کیا کیا جنگی سامان طالبان کے ہاتھ لگ چکا؟ 

طالبان نے پہلے ہی جنگی ساز و سامان کے بڑے ذخیرے پر قبضہ کر لیا ہے جو امریکا نے افغان حکومت کو دیا تھا۔

طالبان نے جدید آتشیں اسلحہ، کمیونیکیشن گیئر ز اور امریکی فوج کے زیر استعمال ہمویز سمیت 2000 سے زیادہ بکتر بند گاڑیاں اور  40 تک ہوائی جہاز  بھی قبضے میں لیے ہیں جن میں ممکنہ طور  پر  UH-60 بلیک ہاکس، اسکاؤٹ اٹیک ہیلی کاپٹر  اور اسکین ایگل فوجی ڈرونز بھی شامل ہیں۔

کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ طالبان نے امریکی فوج کے بائیو میٹرک شناختی آلات بھی قبضے میں لیے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ طالبان کو ان افغانوں کی شناخت مل سکتی ہے جو امریکا کے لیے کام کرتے تھے۔

مزید خبریں :