Time 12 فروری ، 2023
انٹرٹینمنٹ

وہ دلچسپ فلم جو آپ بار بار دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے

یہ فلم 2017 میں ریلیز ہوئی تھی / اسکرین شاٹ
یہ فلم 2017 میں ریلیز ہوئی تھی / اسکرین شاٹ

اگر آپ ذہنوں کو الجھا دینے والی فلمیں پسند کرتے ہیں تو 2017 کی یہ فلم ضرور پسند آئے گی جس کی کہانی بہت زیادہ منفرد ہے۔

ناظرین کی دلچسپی کے لیے اس منفرد کہانی کو سادہ اور دلچسپ انداز سے پردہ اسکرین پر پیش کیا گیا تھا۔

ڈائریکٹر کرسٹوفر لندن کی فلم ہیپی ڈیتھ ڈے 2017 میں ریلیز ہوئی تھی جس کی کہانی ٹائم لوپ کے گرد گھومتی ہے۔

ٹائم لوپ ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق کوئی فرد اس میں پھنس جائے تو اسے مخصوص وقت (جیسے چند منٹ، چند گھنٹے یا ایک دن) یا تجربے سے بار بار گزرنا پڑتا ہے۔

تو اس فلم میں ایک لڑکی ٹائم لوپ میں پھنس جاتی ہے اور ایک ہی دن بار بار گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے جس کے اختتام پر اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔

اس ہارر/ تھرلر فلم میں ٹائم لوپ میں پھنسنے والی لڑکی کا کردار اداکارہ جیسیکا روتھ نے ادا کیا ہے۔

اس فلم کی تیاری پر محض 48 لاکھ ڈالرز خرچ ہوئے تھے مگر اس نے ساڑھے 12 کروڑ ڈالرز سے زیادہ کا بزنس کیا۔

پلاٹ

جیسیکا روتھ نے مرکزی کردار ادا کیا / اسکرین شاٹ
جیسیکا روتھ نے مرکزی کردار ادا کیا / اسکرین شاٹ

یونیورسٹی کی ایک طالبہ تھریسا ٹری Gelbman کی آنکھ اپنی سالگرہ کے دن ہوسٹل کے ایک ایسے کمرے میں کھلتی ہے جو اس کا اپنا نہیں ہوتا بلکہ ایک لڑکے کارٹر کا ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے والد کی فون کال کو نظر انداز کرکے اپنے کمرے میں واپس جاتی ہے۔

وہاں اس کے ساتھ رہنے والی ایک لڑکی Lori Spengler اسے ایک کپ کیک دیتی ہے جسے تھریسا پھینک دیتی ہے۔

رات کو ایک پارٹی میں شرکت کے لیے وہ ایک سرنگ سے گزرتی ہے تو اسے ایک ایسا فرد قتل کر دیتا ہے جس نے بے بی ماسک (ایک بچے کے چہرے والا ماسک) پہنا ہوا ہوتا ہے۔

مگر قتل ہوتے ہی اس کی آنکھ ایک بار پھر اپنی سالگرہ والی صبح میں کھلتی ہے اور اس بار وہ پارٹی میں جانے کے لیے سرنگ میں جانے سے گریز کرتی ہے، مگر پھر بھی وہ ماسک والا فرد اسے قتل کر دیتا ہے۔

اس لڑکی کی آنکھ پھر سالگرہ کی صبح کھلتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک ٹائم لوپ میں پھنس گئی ہے۔

ایسا بار بار ہوتا ہے اور ہر بار وہ مختلف انداز میں قتل ہوتی ہے، جبکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے قاتل کو شناخت کرلے تاکہ اس چکر سے بچ سکے۔

مگر وہ کس طرح اس چکر سے باہر نکلتی ہے اور قاتل کون ہوتا ہے، یہ تجسس آپ کو اسکرین سے نظریں ہٹانے نہیں دے گا۔

اس فلم کی کہانی اتنی دلچسپ ہے جو ہوسکتا ہے آپ کو اسے بار بار دیکھنے پر مجبور کردے۔

چند دلچسپ حقائق

فلم کی کہانی ٹائم لوپ کے تصور کے گرد گھومتی ہے / اسکرین شاٹ
فلم کی کہانی ٹائم لوپ کے تصور کے گرد گھومتی ہے / اسکرین شاٹ

اس فلم کا اسکرپٹ 2007 میں تیار ہوگیا تھا اور پہلے اس کا نام ہاف ٹو ڈیتھ رکھا گیا تھا جبکہ اداکار بھی مختلف تھے، مگر پھر اسے مکمل نہیں کیا جاسکا۔

بعد ازاں اکتوبر 2016 میں اس فلم پر پھر کام شروع ہوا اور اس کا نام بدل کر ہیپی ڈیتھ ڈے رکھ دیا گیا جبکہ نئے ڈائریکٹر اور کاسٹ کی خدمات حاصل کی گئیں۔

فلم کے ڈائریکٹر نے بے بی ماسک اپنے دفتر میں پہن کر ایک ورکر کو ڈرایا اور پھر فلم میں قاتل کے ماسک کے لیے اس کا انتخاب کیا۔

اس فلم کا دوسرا حصہ بھی 2019 میں ریلیز ہوا تھا / اسکرین شاٹ
اس فلم کا دوسرا حصہ بھی 2019 میں ریلیز ہوا تھا / اسکرین شاٹ

جب ڈائریکٹر سے پوچھا گیا کہ بے بی ماسک کا انتخاب کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کالج کیمپس میں ایسا ماسک استعمال کرنا چاہتے تھے جو بیک وقت ڈرانے والا اور مزاحیہ محسوس ہو۔

فلم میں اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا کہ تھریسا ٹائم لوپ میں کیوں پھنس جاتی ہے، یہ جواب فلم کے دوسرے حصے میں دیا گیا جو 2019 میں ریلیز ہوا۔

مزید خبریں :