ناسا کو یو ایف او کے شواہد ملے یا نہیں، رپورٹ کے اجراء سے قبل عوامی اجلاس کا فیصلہ

امریکی اسپیس ایجنسی کے تعاون سے نیشنل سکیورٹی اور انتہائی خفیہ معلومات کو بھی اپنی نوعیت کے پہلے سائنسی مطالعہ میں شامل کیا گیا ہے: ناسا — فوٹو: فائل
امریکی اسپیس ایجنسی کے تعاون سے نیشنل سکیورٹی اور انتہائی خفیہ معلومات کو بھی اپنی نوعیت کے پہلے سائنسی مطالعہ میں شامل کیا گیا ہے: ناسا — فوٹو: فائل

ناسا کی جانب سے گزشتہ برس یو ایف اوز  (Unidentified flying objects) کے سائنسی مطالعے کیلئے قائم کیے گئے پینل نے اپنی رپورٹ جاری کرنے سے قبل عوامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ناسا کی جانب سے سرکاری  اور نجی اداروں کی جانب سے یو ایف اوز سے متعلق جمع کیے گئے ڈیٹا کا جائزہ لینے کیلئے بنائے گئے 16 ارکان پر مشتمل پینل میں فزکس سے لے کر ایسٹروبائیولوجی کے ماہرین کو شامل کیا گیا تھا۔

ناسا کے مطابق عوامی اجلاس بلانے کا مقصد رپورٹ کے اجراء سے قبل آخری مرتبہ اس پر غور کرنا ہے، اجلاس چار گھنٹے تک جاری رہے گا۔

حکام کے مطابق امریکی اسپیس ایجنسی کے تعاون سے نیشنل سکیورٹی اور انتہائی خفیہ معلومات کو بھی اپنی نوعیت کے پہلے سائنسی مطالعہ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ یہ مطالعہ پینٹاگون کی یو ایف اوز سے متعلق تحقیقات سے بلکل مختلف ہے۔

ناسا کا کہنا تھا کہ پینٹاگون نے اپنی تحقیقیات کے بعد یو ایف اوز کیلئے استعمال ہونے والی اصطلاح کو تبدیل کرکے اسے یو اے پی (Unidentified aerial phenomena) کا نام دیا ہے۔ جبکہ ہماری متوازی کوششوں کے نتیجے میں 1940 سے لیکر اب تک یو اے پیز کے دیکھے جانے سے انحراف، اس کے مذاق اڑانے جیسے رویوں میں ایک اہم موڑ  آگیا ہے۔

ناسا کا کہنا تھا کہ ہمارے سائنس مشن نے ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ’شجر ممنوعہ‘ بنائے ہوئے اس موضوع پر کھلے ذہن سے تحقیق کی ہے، جس کیلئے کہا جاتا تھاکہ اس معاملے میں کسی نتیجہ پر پہنچنا مشکل ہے۔

ناسا کی جانب سے بنائے گئے پینل نے گزشتہ جون میں کہا تھا کہ یو اے پیز کے ماورائے ارضی (extraterrestrial) چیزیں ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جبکہ اسپیس ایجنسی کے حالیہ بیانات میں کچھ اہم چیزیں سامنے آئی ہیں، بذات خود یو اے پی کی اصطلاح بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فضا میں اڑتی ہوئے چیزوں کے علاوہ دیگر چیزیں بھی اس مطالعے میں شامل کی گئی ہیں۔

تاہم ابھی ناسا کے اجلاس میں اہم انکشافات ہونا باقی ہیں، اسپیس ایجنسی کے مطابق یو اے پیز سے مراد ’آسمان میں ایسی چیزوں کا مشاہدہ کرنا ہے جنہیں سائنسی نقطہ نظر سے جہاز یا فطری مظہر میں شمار نہیں کیا جاتا‘۔

امریکی محکمہ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ پینٹاگون نے حال ہی میں ایسے مناظر دیکھے جانے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس میں سینکڑوں نئی رپورٹس کا جائزہ لیا جائے گا،  پینٹاگون نے ان رپورٹس میں سے اکثر کو ابھی تک غیر واضح (unexplained) کی کیٹگری میں رکھا  ہے۔

پینٹاگون کی  نئی’ آل ڈومین اینامولے ریزولیوشن آفس‘ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ذہین خلائی مخلوق کی موجودگی کے امکان سے کبھی قطع نظر نہیں کیا گیا تاہم اب تک جو بھی چیزیں دیکھی گئی ہیں ان میں سے کسی کے بھی ماورائےارضی ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔