ناشتہ کرنے کا وہ مخصوص وقت جو ذیابیطس جیسے مرض سے بچا سکتا ہے

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے ناشتہ ممکنہ طور پر دن کا اہم ترین کھانا ہوتا ہے مگر اس صورت میں جب آپ کچھ اصولوں پر عمل کریں۔

اگر تو آپ ناشتے کو اہمیت نہیں دیتے تو جان لیں کہ اپنے دن کا آغاز صحت کے لیے ناقص غذا سے کرنا انتہائی نقصان دہ اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ ناشتے کا وقت بھی اس حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے اور انسولین کی مزاحمت کا خطرہ کم کرنے کے لیے۔

جو افراد صبح 8 بجے سے پہلے ناشتہ کرلیتے ہیں، ان میں ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص کا خطرہ 9 بجے کے بعد دن کی پہلی غذا کھانے والوں کے مقابلے میں 59 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

یہ بات اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بارسلونا انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی اس تحقیق میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

ان افراد کے غذائی عادات کا جائزہ 2 سال تک لیا گیا اور پھر ان کی صحت کو آئندہ 7 برسوں تک دیکھا گیا۔

اس عرصے میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے 963 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صبح 9 بجے کے بعد ناشتہ کرنے والے افراد میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 8 بجے سے پہلے ناشتہ کرنے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ متعدد عناصر ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھاتے ہیں جیسے ناقص غذا، جسمانی سرگرمیوں سے دوری اور تمباکو نوشی وغیرہ، مگر کھانے کا وقت بھی اس حوالے سے اہم ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج قابل فہم ہے کیونکہ ناشتہ نہ کرنے سے بلڈ گلوکوز اور انسولین کی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ رات گئے کھانا کھانے (رات 10 بجے کے بعد) سے بھی ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ دن کی پہلی غذا صبح 8 بجے سے پہلے جبکہ آخری غذا شام 7 بجے تک کھانے سے ذیابیطس جیسے مرض سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج International Journal of Epidemiology میں شائع ہوئے۔

مزید خبریں :