پاکستان
Time 26 فروری ، 2024

ایف بی آر کے 10 ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے، سینیٹر مشتاق کا دعویٰ

سرکاری ملکیتی اداروں کاخسارہ کل جی ڈی پی کا دس فیصد تک پہنچ گیا ہے جو ریاستی ادارے چل نہیں سکتے ان کی نجکاری کر دی جائے— فوٹو:فائل
سرکاری ملکیتی اداروں کاخسارہ کل جی ڈی پی کا دس فیصد تک پہنچ گیا ہے جو ریاستی ادارے چل نہیں سکتے ان کی نجکاری کر دی جائے— فوٹو:فائل

سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق خان نے دعویٰ کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے سینیٹر مشتاق کا کہنا تھاکہ سرکاری ملکیتی ادارے عوام کے ٹیکس کے 458 ارب روپےکھا رہے ہیں، ان سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی صفر ہے، سرکاری ادارے عوام کو سہولت دینے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ غریب سے امیر کی طرف جاتا ہے، موجودہ ماڈل غریبوں کا نوالہ چھیننے والا اور امیروں کو نوازنے والا ہے، پاکستان کی 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ایف بی آر کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے، پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے جبکہ جنوبی ایشیامیں فی کس آمدن بڑھ رہی ہے۔

سینیٹرمشتاق کا کہنا تھاکہ سرکاری ملکیتی اداروں کاخسارہ کل جی ڈی پی کا دس فیصد تک پہنچ گیا ہے  جو ریاستی ادارے چل نہیں سکتے ان کی نجکاری کر دی جائے۔

مزید خبریں :