16 فروری ، 2025
کراچی میں اغوا کے بعد دوست کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کی آخری مرتبہ گھر سے جانے کی ویڈیو سامنے آگئی۔
سامنے آنے والی ویڈیو میں مقتول مصطفیٰ کو 6 جنوری کو گاڑی میں شام ساڑھے 6 بجے گھر سے نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے مقتول مصطفیٰ کی والدہ کا کہنا ہے کہ گھر سے جانے کے ایک گھنٹے بعد ہی مصطفیٰ کی انٹرنیٹ ڈیوائس بند ہو گئی تھی۔
مصطفیٰ کی والدہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بیٹے کے قتل میں ایک لڑکی بھی ملوث ہے، لڑکی کے میرے بیٹے سے 4 سال سے تعلقات تھے اور وہ نشے کی عادی تھی۔
مقتول کی والدہ کا کہنا تھا لڑکی کی وجہ سے مصطفیٰ اور ارمغان کے درمیان چیقلش پیدا ہوئی اور جب لڑکی کو پولیس نے تفتیش کے لیے بلایا تو وہ امریکا فرار ہو گئی۔
یاد رہے کہ پولیس نے چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مومن میں مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تھا جس دوران گھر سے پولیس نفری پر فائرنگ کی گئی جس میں ڈی ایس پی سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس کو گھر سے مغوی کا موبائل فون ملا جس کی مدد سے مرکزی ملزم کے دوست کی گرفتاری عمل میں آئی اور دوران تفتیش گرفتار ملزم شیراز نے انکشاف کیا کہ اس نے ارمغان کے ساتھ مل کر مصطفیٰ کو اس کی گاڑی کی ڈگی میں بند کر کے زندہ جلا دیا تھا۔
پولیس کو مصطفیٰ کی گاڑی حب سے جلی ہوئی حالت میں ملی تھی جبکہ فلاحی ادارے کے سربراہ نے جیو نیوز کو بتایا تھا کہ پولیس نے انہیں جو لاش دی تھی اس کا ہاتھ، سر اور پاؤں نہیں تھے صرف دھڑ تھا۔