Time 02 اپریل ، 2025
صحت و سائنس

سائنسدانوں کی گنج پن کے مؤثر علاج کیلئے اہم پیشرفت

سائنسدانوں کی گنج پن کے مؤثر علاج کیلئے اہم پیشرفت
ایک تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا / فائل فوٹو

دنیا بھر میں ہر سال گنج پن سے متاثر افراد علاج کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کردیتے ہیں اور کوئی بھی طریقہ علاج 100 فیصد مؤثر نہیں۔

مگر اب ایک نئی دریافت سے گنج پن کا مؤثر طریقہ علاج تشکیل دینا ممکن ہوجائے گا۔

اس دریافت سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ مردوں میں پائے جانے والے گنج پن کے عام مرض الوپ پیسا کا مؤثر علاج ممکن ہو سکے گا۔

اس مرض میں عموماً سر کے درمیان سے بال غائب ہونے لگتے ہیں اور بتدریج یہ سلسلہ پورے سر تک پھیل جاتا ہے۔

آسٹریلیا، سنگاپور اور چین کے ماہرین نے دریافت کیا کہ بالوں کی جڑوں کے ایچ ایف ایس سی نامی اسٹیم سیلز بالوں کے دوبارہ اگنے اور مرمت کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور اس کے لیے ایم سی ایل 1 نامی طاقتور پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایم سی ایل 1 کے بغیر یہ اسٹیم سیلز تناؤ کی زد میں رہتے ہیں اور بتدریج مرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں گنج پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب ایچ ایف ایس سی کو بالوں کے گرنے یا جڑوں کے سکڑنے کے باعث تناؤ کا سامنا ہوتا ہے تو خلیات بتدریج مرنے لگتے ہیں جس سے بال جھڑنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پہلے یہ معلوم تھا کہ ایم سی ایل 1 ایچ ایف ایس سی کو ریگولیٹ اور بالوں کی دوبارہ نشوونما میں مدد فراہم کرتا ہے، مگر ایسا کیسے ہوتا ہے، یہ ایک اسرار تھا۔

ایچ ایف ایس سی پر ایم سی ایل 1 کے اثرات کو جاننے کے لیے محققین نے چوہوں پر تجربات کیے اور ان کی جِلد کے خلیات میں ایم سی ایل 1 کو ختم کر دیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ اس پروٹین کے بغیر بالوں کی جڑیں تو متاثر نہیں ہوئیں مگر بتدریج ان کے بال جھڑنا شروع ہوگئے۔

بالغ چوہوں میں اس پروٹین کو ختم کرنے سے متحرک ایچ ایف ایس سی بہت تیزی سے تباہ ہوئے جس کے نتیجے میں بالوں کے اگنے کا عمل تھم گیا۔

مگر جب محققین نے ایم سی ایل 1 کو دوبارہ متحرک کیا تو نئے بال اگنا شروع ہوگئے مگر پھر جڑوں کو تناؤ کا تجربہ ہوا جس سے پی 53 پروٹین متحرک ہوا۔

محققین کے مطابق ایم سی ایل 1 اور پی 53 کے درمیان تعلق خلیات کی بقا اور بالوں کی جڑوں کو مرنے سے بچانے میں اہم ثابت ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق ابھی اس حوالے سے مزید تحقیقی کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بالوں کے جھڑنے کی روک تھام ہوسکے اور الوپ پیسا کا مؤثر علاج کیا جاسکے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئے۔

مزید خبریں :