04 اپریل ، 2025
کیا رات کو بستر پر لیٹنے کے بعد نیند نہیں آتی اور بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟ تو اس کا حل بہت آسان ہے۔
درحقیقت بے خواب راتوں سے بچنے کا حل آپ کے پیروں میں چھپا ہو سکتا ہے۔
ویسے تو اکثر تناؤ اور مخصوص طبی مسائل بے خوابی یا بے چین نیند کا باعث ہوتے ہیں مگر ایک اور وجہ بھی آپ کو رات بھر بیدار رکھ سکتی ہے اور وہ ہے ٹھنڈے پیر۔
امریکا کے کلیو لینڈ کلینک کے سلیپ ڈس آرڈر کی ڈائریکٹر مچل ڈریپ کے مطابق ویسے سننے میں تو یہ عجیب اور مضحکہ خیز لگے گا مگر سونے کے وقت جرابیں پہن کر لیٹنے سے جلد سونے میں مدد ملتی ہے۔
تو ایسا کیسے ممکن ہوتا ہے کیونکہ جرابیں پہننے سے گرمی کا احساس بڑھ سکتا ہے اور اس کے باوجود اچھی نیند کیسے ممکن ہے؟
مچل ڈریپ کے مطابق دن کے وقت ایک بالغ فرد کا جسمانی درجہ حرارت 36.1 اور 37.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے اور اوسط جسمانی درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔
مگر رات کی تاریکی بڑھنے کے ساتھ جسمانی درجہ حرارت ایک سے 2 ڈگری تک گھٹ جاتا ہے جس سے جسم کو نیند کے لیے تیار ہونے میں مدد ملتی ہے۔
اس قدرتی عمل کو طبی زبان میں distal vasodilation کہا جاتا ہے جس سے ہاتھوں پیروں میں موجود خون کی کشادہ شریانوں کو ٹھنڈا ہونے میں مدد ملتی ہے اور وہ سکڑ جاتی ہیں جبکہ جِلد کے راستے حرارت کا اخراج ہوتا ہے۔
جب جِلد گرم ہوتی ہے تو جسم کے اہم حصے ٹھنڈے ہونے لگتے ہیں اور اس موقع پر جرابوں کا استعمال جادوئی ثابت ہوسکتا ہے۔
مچل ڈریپ کے مطابق پیروں کو گرم رکھنے سے خون کی شریانیں کھلتی ہیں اور جسم کے باقی حصوں میں بھی ٹھنڈک کا احساس پہنچتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیروں میں خون کی گردش بڑھانے سے جسمانی درجہ حرارت گھٹ جاتا ہے اور بستر پر لیٹتے ہی جلد سونا آسان ہو جاتا ہے۔
2018 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بستر پر جرابیں پہن کر سونے کے لیے لیٹنے سے نیند جلد آتی ہے اور نیند کا دورانیہ بھی زیادہ وقت تک برقرار رہتا ہے جبکہ نیند کے دوران اٹھنے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔
مچل ڈریپ نے بتایا کہ صرف جرابیں ہی نہیں سونے سے قبل نیم گرم پانی سے نہانے سے بھی یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 'اگر سونے سے قبل ہم جسمانی درجہ حرارت کو بڑھا لیں تو لیٹنے کے بعد اس میں اچانک کمی آتی ہے جس سے غنودگی کا احساس بڑھ جاتا ہے اور نیند کا حصول آسان ہو جاتا ہے'۔
اگر آپ کی ایڑیاں پھٹ گئی ہیں تو رات کو سوتے وقت جرابیں پہن کر سونے سے اس کو ٹھیک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے پہلے اپنے پیروں کو پانی میں بھگوئیں اور پھر خشک کرکے متاثرہ حصے کو رگڑیں اور لوشن یا کریم لگا کر جرابیں پہن لیں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔