12 اپریل ، 2012
اسلام آباد… میمو تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس آج پھر ہوگا جس میں وزارت خارجہ کی جانب سے حسین حقانی کے ہاتھوں خفیہ فنڈز کے استعمال کی تفصیلات پیش کیے جانے کا امکان ہے۔کمیشن نے حسین حقانی کو بھی اسلام آباد طلب کر رکھا ہے۔ میمو کمیشن کا اجلاس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگا ،گزشتہ سماعت پر کمیشن نے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو پیش ہونے کا ایک اور موقع دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ 12 اپریل کو اپنے بلیک بیری سیٹس اور دستاویزات سمیت حاضر ہو کر صفائی پیش کریں۔ کمیشن نے حسین حقانی کو پاکستان بلوانے کے لیے چار آپشنز بھی پیش کیے تھے جن میں حقانی کے وارنٹ گرفتاری، فوجداری مقدمے کا اندراج ، اثاثوں کی ضبطی یا توہین عدالت کی کارروائی شامل تھی۔منصوراعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے الزام عائد کیا تھاکہ حسین حقانی استعفے کے بعد بھی امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے خفیہ فنڈز استعمال کرتے رہے۔ توقع ہے کہ وزارت خارجہ اپریل تا دسمبر 2011 کے دوران امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے استعمال ہونے والے خفیہ فنڈز کا ریکارڈ بھی پیش کرے گی۔زاہد بخاری کے مطابق ان کے موکل حسین حقانی نے ڈیٹا کے حصول کے لیے آر آئی ایم کمپنی کو اپنے پرائیویسی کے حق سے دستبرداری کا خط لکھ دیاہے۔ میمو اسکینڈل کے دوسرے مرکزی کردار منصور اعجاز نے میمو کمیشن میں حسین حقانی کے بیان ریکارڈ کرانے کا حق ختم کرنے کی درخواست جمع کرادی ہے۔