ویل ڈن بابر اعظم!

T-20ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں سخت مقابلے کے بعد آسٹریلیا فائنل میں پہنچ گیا۔قومی ٹیم نے ہار کر بھی دل جیت لئے 19ویں اوورز میں شاہین آفریدی کی گیند پر حسن علی نے میتھیو ویڈ کا کیچ چھوڑا جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا،شاہین کو مسلسل 3گیندوں پر 3چھکے لگے اور پاکستان میچ جیتتے جیتتے ہار گیا۔ 

حسن علی نے 4اوورز میں 48رنز دیے۔آسٹریلیا کے میتھیو ویڈ کی ناقابلِ یقین بیٹنگ نے پاکستانی ٹیم کو اس اعصاب شکن مقابلے میں شکست دی۔ اس طرح سیمی فائنل میں پاکستان کا سفر ختم ہو گیا اور آسٹریلیا نے فائنل کے لئے کوالیفائی کر لیا۔ 

پلیئر آف دی میچ میتھیو ویڈ نے 17گیندوں پر 41برق رفتار رنز بنائے جس میں 4چھکے اور 2چوکے شامل تھے۔شاہین آفریدی کے آخری اوورز میں 22رنز بنے۔آسٹریلیا کی ٹیم 11ویں بار کسی آئی سی سی ایونٹ کے فائنل میں پہنچی ہے۔ 

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹی 20ورلڈکپ کے آغاز ہی میں بھارت کو قریباً یک طرفہ مقابلے کے بعد شکست دے دی۔ یہ فتح اس لئے بھی یادگار ہے کہ پاکستان نے ورلڈکپ میں کبھی بھارت کو شکست نہیں دی تھی۔ پاکستان نے بھارت کو نہ صرف 10وکٹوں سے ہرایا بلکہ اپنا مطلوبہ ہدف بھی دو اورز اور ایک گیند قبل حاصل کرلیا۔ 

کپتان بابر اعظم نے52 گیندوں پر 68 اور محمد رضوان نے55 گیندوں پر78رنز حاصل کئے۔ شاہین شاہ آفریدی نے انتہائی تیز اور سوئنگ باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین ٹاپ بلے بازوں کو پویلین کا راستہ دکھایا۔ پاکستان نے پہلی بار ٹی 20میں کوئی میچ10 وکٹوں سے جیتا، دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت بھی پہلی مرتبہ کسی ٹی20 میں کوئی میچ10 وکٹوں سے ہارا۔

پاکستان نے دوسرے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔حارث رؤف نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، شاہین آفریدی، محمد حفیظ اور عماد وسیم نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔نیوزی لینڈ کی جانب سے گپٹل نے 17، مچل نے 27، کپتان کین ولیمسن نے 25 اور کونوے نے 27 رنز بنائے جبکہ باقی تمام بلے باز اپنا بہترین کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے شاندار آغاز کیا لیکن پاکستانی باؤلنگ اٹیک نے ان کا زیادہ اسکور نہیں ہونے دیا اور 134 رنز تک محدود کر دیا۔پاکستان نے شاندار آغاز کیا لیکن میچ کے وسط میں پاکستان کی وکٹیں گرنا شروع ہو گئیں۔محمد رضوان، شعیب ملک اور آصف علی نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔

جب وکٹیں گرنا شروع ہوئیں تو پاکستان میں سب نے سوچا کہ شاید پاکستان میچ ہار جائے گالیکن پاور ہٹر آصف علی کے پاس کچھ اور ہی منصوبہ تھا۔ اس نے زخمی ہونے کے باوجود لگاتار2 چھکے لگائے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر ایک اور چھکا لگایا جس سے پاکستان کی جیت ممکن ہوئی۔

پاکستان نے تیسرے میچ میں افغانستان کو شکست دی۔آصف علی کی ’’سرجیکل اسٹرائیکس‘‘ کے سبب افغانستان کو ایک دلچسپ مقابلے کے بعد 5وکٹوں سے شکست ممکن ہو سکی۔ میچ اپنے اختتام پر سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گیا تھا۔ پاکستان کو 12گیندوں پر 24رنز درکار تھے۔

تاہم جارحانہ مزاج آصف علی نے یہ ہدف ایک ہی اوور میں پورا کر لیا۔ دبئی میں کھیلے گئے پول بی کے اس اہم میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20اوورز میں 6وکٹوں کے نقصان پر 147رنز بنائے جواب میں قومی ٹیم کی جانب سے محمد رضوان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم محمد رضوان 8رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ فخر زمان 30رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ محمد حفیظ اعصاب شکن لمحوں میں تیزی سے اسکور کرنے کی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھے۔ 

شعیب ملک نے 15گیندوں پر 19رنز بنائے۔ یہاں کپتان بابر اعظم کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ دارانہ بیٹنگ سے ایک ’’اینڈ‘‘ سنبھالے رکھا۔ 45گیندوں پر 51رنز بنائے۔ مین آف دی میچ کا اعزاز آصف علی کو دیا گیا جنہوں نے فقط 7گیندیں کھیل کر 25رنز بنائے۔چوتھے میچ میں پاکستان نے نمیبیاکے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 2وکٹ کے نقصان پر 189رنز بنائے بابر اعظم 70رنز بنا کر آئوٹ ہوئے جبکہ محمد رضوان نے 26گیندوں پر ناقابل شکست 67رنز کی برق رفتار پارٹنر شپ بنائی۔

محمد حفیظ16 گیندوں پر 32رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے۔جواب میں نمیبیا کی ٹیم 5وکٹوں کے نقصان پر145رنز بنا سکی۔ پاکستان نے اپنے پانچویں میچ میں اسکاٹ لینڈ کو یک طرفہ مقابلے میں 72رنز سے شکست دی۔اس طرح T-20ورلڈ کپ میں ناقابلِ تسخیر پاکستانی ٹیم تمام گروپ میچ جیتنے میں کامیاب رہی۔

قارئین T-20ورلڈ کپ کا منفرد ریکارڈ بھی پاکستان کے نام ہو گیا ہے۔ پاکستان نے T-20ورلڈ کپ کے دوران پاور پلے میں سب سے کم وکٹیں گنوانے کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا، قومی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل کے دوران پاور پلے میں بغیر کوئی وکٹ گنوائے 47رنز بنائے۔ 

سیمی فائنل سے ایک دن پہلے رضوان نے پھیپھڑوں کی تکلیف کے باعث رات اسپتال میں گزاری، رات اسپتال میں گزارنے کے باوجود رضوان کا جذبہ کم نہیں ہوا انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف 67رنز داغ دیے اور کسی موقع پر بھی نہیں لگا کہ وہ رات بھر اسپتال میں رہے تھے۔ یہی جذبہ ہماری ٹیم کو کامیابیاں دلوا رہا ہے۔ قوم کو اس ٹیم پر فخر ہے یہی جذبہ قائم رہنا چاہئے اور اس شکست سے سبق سیکھنا چاہئے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید خبریں :