کھیل
16 نومبر ، 2021

ٹی 20 ورلڈکپ کے آغاز سے قبل تمام دعوے غلط ثابت ہوگئے

آسٹریلیا کو پچاس اوورز کا ورلڈکپ ریکارڈ پانچ بار جیتنے کا اعزاز ہے— فوٹو آئی سی سی
آسٹریلیا کو پچاس اوورز کا ورلڈکپ ریکارڈ پانچ بار جیتنے کا اعزاز ہے— فوٹو آئی سی سی

آسٹریلیا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیت کر سب کو حیران کردیا اور کسی کو توقع نہیں تھی کہ آسٹریلین ٹیم نیوزی لینڈ کوبآسانی 8وکٹ سے شکست دے کر اس فارمیٹ میں بھی اپنی دھاک بٹھا دے گی۔

آسٹریلیا کو پچاس اوورز کا ورلڈ کپ ریکارڈ پانچ بار جیتنے کا اعزاز ہے، اس نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی ہےلیکن پہلی بار ٹورنامنٹ کی جیت ان کے جارحانہ انداز کا نتیجہ تھا، پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں شکست کھانے کے بعد اب بنگلہ دیش میں ہے جہاں جمعے سے اس کا ایک اور امتحان شروع ہوگا۔

بنگلہ دیش میں پاکستان کو 3  ٹی ٹوئنٹی اور 2  ٹیسٹ کھیلنا ہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل تمام دعوے غلط ثابت ہوگئے،نہ بھارت جیت سکا اور نہ انگلینڈ کی ٹیم فائنل میں رسائی حاصل کرسکی۔

پاکستانی ٹیم پانچ لگاتار فتوحات کے بعد سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کھا کر باہر ہوگئی ویسٹ انڈین ٹیم بھی ٹائٹل کے دفاع میں ناکام رہی۔

پاکستان نے گروپ مرحلے میں بھارت،نیوزی لینڈ سمیت تمام رکاوٹوں کو عبور کیا لیکن میتھیو ویڈ کی حیران کن اننگز نے پاکستانی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں نیوزی لینڈ چوتھے جبکہ آسٹریلیا چھٹے نمبر پر ہے لیکن ناک آؤ ٹ مرحلے میں ایک بار پھر آسٹریلیا نے تمام ٹیموں پر اپنی دھاک بٹھا دی۔

نیوزی لینڈ نے اس سال بھارت کو ہراکر آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتی تھی لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کو آسٹریلیا نے زیر کردیا۔

دبئی انٹرنیشنل کرکٹ ا سٹیڈیم میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیا ہے، اس فتح میں ڈیوڈ وارنر کے 53 اور مچل مارش کے 77 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کا اہم کردار تھا۔ 

ہیزل وڈ کی3  وکٹیں بھی نمایاں رہیں آخری پانچ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں آسٹریلیا کی مایوس کن کارکردگی لیکن ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھائی، انگلینڈ نے اسے دو ایک،بھارت نے دو ایک نیوزی لینڈ نے تین دو،ویسٹ انڈیز نے چار ایک اور بنگلہ دیش نےچار ایک سے شکست دی۔

اس بدترین کارکردگی کے بعد کپتان ایرون فنچ اور ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے جس طرح اس ٹیم کو متحد کیا وہ کمال تھا، آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے کہا کہ میرے لیے ٹیم کی کارکردگی قابل فخر ہے جس نے پہلی بار ہمیں یہ ورلڈ کپ جتوایا، لڑکوں نے ورلڈ کپ جیتنے کی مہم میں جس طرح کارکردگی دکھائی اس پر فخر ہے ، تمام کھلاڑی لڑے اور جیت کو یقینی بنائی۔

 اس ٹورنامنٹ میں کچھ عمدہ ٹیم اور انفرادی کارکردگی سامنے آئی نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے کہا کہ جیت کا کریڈٹ آسٹریلیا کو جاتا ہے جنہوں نے بڑے اسکور کے باوجود میچ کو یک طرفہ کردیا۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ میں ایک پلیٹ فارم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے،کچھ پارٹنرشپس بنائیں جو ہم نے سوچا ویسا ہی ٹوٹل دیا، آسٹریلیا نے شاندارطریقے سے ہدف پورا کیا،  فائنل تک پہنچنے میں ہمیشہ اچھا لگا لیکن کریڈٹ پھر آسٹریلیا کو جاتاہے، شکست پر افسوس ہے، ہم جیت حاصل نہیں کر سکے ۔

ہم تھوڑا سا پیچھے رہ گئے ،اس پر فخر ہے کہ ہم نے اچھی کرکٹ کھیلی نتیجے کو محسوس کر رہے ہیں ، بہت زیادہ دل دُکھا،ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 303 رنز بنانے کا اعزاز پاکستان کے کپتان بابر اعظم کو حاصل ہوا لیکن فاتح آسٹریلوی ٹیم کے ڈیوڈ وارنرکوپلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا جنہوں نے289رنز بنائے، محمد رضوان نے281رنز اسکور کئے تھے۔

ڈیوڈ وارنر نے کہا کہ میں پہلے بھی بیٹنگ کرتے ہوئے اچھا محسوس کر رہا تھا لیکن میرے لیے اہم یہ تھا کہ میں دوبارہ بنیادی چیزوں پر توجہ دوں اور سنتھیٹک اور مشکل وکٹوں پر کھیل کر زیادہ سے زیادہ گیندیں کھیلوں۔ 

ڈیوڈ وارنر کے مطابق ، میں ہمیشہ ہی پرجوش رہتا ہوں اور چاہتا تھا کہ اچھی کارکردگی دکھاؤں۔فائنل میں77رنز بنانے والے مچل مارش میچ کے بہترین کھلاڑی قرارپائے۔ 

مچل مارش نے کہا کہ میرے پاس اس وقت الفاظ نہیں ہے، یہ بطور گروپ بہترین چھ ہفتے تھے، میں ان سب کھلاڑیوں سے بے انتہا محبت کرتا ہوں، ہم ورلڈ چیمپئن ہیں۔ویسٹ انڈیز میں کوچنگ ا سٹاف میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ اس ٹورنامنٹ کے لیے نمبر تین پر بیٹنگ کریں گے اور میں نے خوشی خوشی قبول کیا۔

میں اس بارے میں اسٹاف کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، آسٹریلیا کے میتھیو ویڈ نےسب سے زیادہ9کیچ لیے، انگلینڈ کے جوز بٹلر نے سب سے زیادہ13چھکے مارے، ایک اننگز میں سے زیادہ سات چھکے مارٹن گپٹلنے مارے، ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی شراکت152رنز کی بھارت کے خلاف بابر اعظم اور محمد رضوان کی تھی، بابر نے چار نصف سنچریاں بنائیں،  واحد سنچری بٹلر نے بنائی، ورلڈ کپ کا جنون ابھی ختم نہیں ہوا کہ بنگلہ دیش کی سیریز شروع ہورہی ہے ، ایسے میں سیمی فائنل کی شکست پر ہر کوئی حسن علی کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔

پی سی بی چیئرمین رمیز راجا نے کہا ہے کہ حسن علی پر تنقید میڈیا ہی کررہا ہے، حسن علی کو یہ بات بار بار ستائے گی اور اس سے نکلنے میں اسےتھوڑا وقت لگے گا ، میں حسن علی کی جگہ ہوں تو فیلڈنگ ٹریننگ ڈبل کردوں، حسن علی اس غلطی کو بار بار یاد نہ کرے، حسن علی کو اپنی غلطی سے سیکھنا ہوگا،حسن علی نے غلطی کی لیکن اچھی بات ہے اس کو سپورٹ بھی کیا جارہا ہے ، محمد رضوان سے نیشنل ازم سیکھنے کی ضرورت ہے محمد رضوان نے بڑے حوصلے سے کام لیا ہے ۔

پاکستان ٹیم کی بابر اعظم کی کپتانی بہت اچھی تھی، کرکٹ ان چند کھیلوں میں جہاں لیڈر شپ اہمیت رکھتی ہے، کھلاڑیوں پر اعتماد کیا پھر انہوں نے اچھا رسپانس کیا،کھلاڑیوں کی اپنی محنت رنگ لائی ہے ، میں کھلاڑیوں سے بحیثیت کھلاڑی بات کرتا ہوں چیئرمین بن کر بات نہیں کرتا، واقعی حسن علی اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہیں لیکن سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہونے کے بعد انہیں اب آرام دینے کی ضرورت ہے۔

کچھ نئے لڑکوں کو آزمایا جائے ، ورلڈ کپ کی طرح بنگلہ دیش کا دورہ بھی آسان نہیں ہے، بابر اعظم اور ان کے ساتھیوں کو تسلسل دکھانے کے لئے بنگلہ دیش میں اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی ،بنگلہ دیش ورلڈ کپ سے قبل ہوم گراونڈ پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو ہراچکا ہےاس لیے سیریز کو آسان قرار دینا حماقت ہوگی۔

مزید خبریں :