Can't connect right now! retry

پاکستان
08 اکتوبر ، 2019

جے کے ایل ایف کا ایل او سی کے قریب دھرنا دوسرے روز میں داخل

کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کا پانچواں روز ہے — فوٹو: سوشل میڈیا

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کا لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کا آج پانچواں روز ہے، بھمبر سے شروع ہونے والا آزادی مارچ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا جب ایل اوسی کے قریب پہنچا تو 6 کلومیٹر دور جسکول کے مقام پر شرکاء کو روک دیاگیا۔

آزادی مارچ کے شرکاء نے 6 اکتوبر کو جسکول کے مقام پر ہی دھرنا شروع کیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

دھرنے کے شرکاء شدید سردی میں بھی دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں، دھرنے میں خواتین بھی شریک ہیں۔ 

گزشتہ روز دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے کے ایل ایف کے ترجمان رفیق ڈار نے مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو حل کر نے کیلئے پیس کیپنگ فورس تعینات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا نمائندہ ہمارے ساتھ مذاکرات کرے، سیکیورٹی کونسل کے پانچوں نمائندگان کو لائن آف کنٹرول کا جائزہ لینے کیلئے لایا جا ئے اور بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ چیئرمین یاسین ملک سمیت ساری قیادت کو رہا کرے۔

رفیق ڈار کے مطابق جے کے ایل ایف کے نوجوان ایل او سی عبور کرکے محصور بہن بھائیوں کی مدد کیلئے تیار ہیں اور پارٹی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک رکاوٹیں نہیں ہٹائی جاتیں دھرنا جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر بھارت ایل او سی کے پار حملہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ کشمیری جدوجہد کی حمایت یا انسانی امداد دینے کیلئے ایل او سی پار کرنا بھارتی بیانیے کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہوگا، بھارتی بیانیہ کشمیریوں کی مقامی جدوجہد کو اسلامی دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 13 ستمبر کو مظفرآباد میں جلسہ عام سے خطاب میں بھی کہا تھا کہ کنٹرول لائن پر جانے کے خواہاں کشمیری میری کال کا انتظار کریں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM