,
Time 05 نومبر ، 2019
پاکستان

آزادی مارچ: حکمرانوں کو جانا ہوگا اس سے کم پر بات نہیں ہوگی، فضل الرحمان

فوٹو: اے ایف پی

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ  جاری ہے۔

آزادی مارچ کے شرکاء سے پانچویں روز خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم جو مقصد لیکر آئے ہیں، ہم اس کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا اور سب نے آزادی مارچ کو خوبصورت الفاظ میں پذیرائی بخشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا ہے کہ اس محاذ پر جمعیت علمائے اسلام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور قدم بہ قدم ساتھ چلیں گے، آج آزادی مارچ کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی وابستگی کے بارے میں جو شکوک و شبہات اور افواہیں تھیں، وہ بھی دم توڑ گئی ہیں۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہم نے اگلے مراحل تک جانا ہے، کل آپ مایوس ہورہے تھے تو آج اپوزیشن جماعتوں نے حوصلہ دیا ہے، تمام جماعتوں کی قیادت نے کہا ہے کہ اس اجتماع کے اٹھنے کا فیصلہ متفقہ کریں گے۔














اس دوران اسٹیج سے گو سلیکٹڈ گو کے نعرے لگائے گئے تو مولانا فضل الرحمان نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’اب معاملہ سلیکٹڈ سے آگے نکل گیا ہے اور یہ وزیراعظم ریجیکٹڈ ہے‘۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو قرضوں میں جکڑ لیا ہے اور اب ہماری معیشت مکمل طور پر آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے، خارجہ پالیسی ناکام اور داخلی طور پر پاکستان غیر مستحکم ہے۔

پاکستان کے تمام ادارے ملکی استحکام کے حوالے سے اضطراب میں ہیں: فضل الرحمان

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے تمام ادارے ملکی استحکام کے حوالے سے اضطراب میں ہیں، پوری قوم اور ادارے ایک صف میں آکر اپنے ملک کو داخلی استحکام بھی دے سکتے ہیں اور بین الاقوامی استحکام بھی دے سکتے ہیں لیکن نااہل حکومت کے ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں ہوسکتا‘۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کو عالمی برادری میں تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں، ہر طرف محاذ کھول لیے ہیں، پاکستان تنہا ہورہا ہے، یہ سوچتے تھے کہ مودی  رحمت بنے گا، کہا کہ مودی جب کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا، مودی کامیاب ہوگیا اور یہ وہ حل ہے جو کشمیر کا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، جو آج آواز بلند کی ہے، وہ 20 کروڑ عوام کی آواز ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کی برکت سے مذاکراتی کمیٹی بناکر بھیجی ہے اور اس نے ایک شرط لگا کر مذاکرات کی بات کی ہے، جس پر میں نے کہا کہ متاثرہ فریق ہم ہیں، شرائط پیش کرنی ہیں تو ہم نے کرنی ہیں، آپ کو اس کا کوئی حق نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم خواتین کو حقوق دینا چاہتے ہیں، حق پر کوئی اختلاف نہیں ہے ، اقلیتیں ہمارے ساتھ محفوظ ہیں جس کی وجہ جمعیت کے منشور میں اقلیتوں کو دیے گئے حقوق ہیں، بحیثیت شہری کے ہم مضطرب ہیں، قوم کے اضطراب کو دور کیا جائے گا لہٰذا ناجائزحکمران جتنا جلدی جائیں گے، اتنی جلدی اضطراب کا خاتمہ ہوگا۔

خیال رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یکم نومبر جمعے کی شام وزير اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو اتوار کی شام ختم ہوچکی ہے تاہم وزیراعظم مستعفی نہیں ہوئے۔

فضل الرحمان نے آزادی مارچ سے خطاب میں تھا کہ وزیراعظم نے دو روز میں استعفیٰ نہ دیا تو یہ اجتماع قدرت رکھتا ہے کہ خود وزیر اعظم کو گھر جا کر گرفتار کر لے البتہ ہم پُرامن لوگ ہیں چاہتے ہیں کہ پُرامن رہیں، اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی یا تصادم نہیں،اداروں کا استحکام چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ادارے بھی غیر جانب دار رہیں۔

آزادی مارچ سے متعلق حکومت اور اپوزیشن کا معاہدہ

 اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے کہ اپوزیشن اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی اور وہاں سے آگے نہیں بڑھے گی۔

حکومت کی جانب سے جاری این او سی کے مطابق آزادی مارچ میں 18 سال سےکم عمر بچے شرکت نہیں کریں گے، مارچ قومی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا، آزادی مارچ کے شرکا سٹرکیں اور راستے بند نہیں کریں گے، شرکاء کسی سرکاری عمارت میں داخل نہیں ہوں گے۔

البتہ گزشتہ روز فضل الرحمان نے ڈی چوک کی جانب بڑھنے کا اشارہ دیا تھا جس کے بعد حکومتی کمیٹی نے اپوزیشن پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

آزادی مارچ کا پہلا روز

آزادی مارچ کا دوسرا روز

آزادی مارچ کا تیسرا روز

آزادی مارچ کا چوتھا روز

چوہدری برادران کی فضل الرحمان سے ملاقات

ملاقات میں آزادی مارچ، ملکی سیاسی صورت حال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا— فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آزادی مارچ، ملکی سیاسی صورت حال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

مولانا سے ملاقات سے قبل مختصر گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ ہم مفاہمت کے لیے آئے ہیں، مفاہمت سے ہی راستہ نکلے گا، وزیراعظم نے کل حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بلایا ہے، وزیراعظم کو تمام صورتحال سے کل آگاہ کریں گے۔ مزید پڑھیں۔۔۔ 

حکومت اور اپوزیشن میں کن مطالبات پر معاملہ حل ہوسکتا ہے؟

پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج میں دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی شرط معاہدے کا حصہ ہوسکتی ہے: ذرائع — فوٹو: آن لائن 

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیاں بعض نکات پر اتفاق رائے کیلئے کوشاں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں معاہدہ طے پایا تو چوہدری شجاعت حسین سمیت غیر متنازع شخصیات گارنٹرز (ضمانتی) ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ دھاندلی کی تحقیقات کی پارلیمانی کمیٹی کو فوری فعال کرنے کا نکتہ معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، ساتھ ساتھ دھاندلی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج کی ڈیڈلائن مقرر کرنے کا نکتہ بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی شرط معاہدے کا حصہ ہوسکتی ہے اور فوری انتخابی اصلاحات کی تجویز بھی معاہدے کا حصہ بن سکتی ہے۔ مزید پڑھیں۔۔۔

فضل الرحمان کا ’ان ہاؤس تبدیلی‘ کا اشارہ، اے پی سی کی اندرونی کہانی

اے پی سی میں دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ذرائع، مریم نواز بھی آزادی مارچ سے خطاب کرسکتی ہیں— فوٹو فائل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کو ان ہاؤس (ایوان کے اندر) سے تبدیلی کا اشارہ دے دیا۔ 

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کو ان ہاؤس (ایوان کے اندر) سے تبدیلی کا اشارہ دیا ہے، پارلیمان میں حکومت کی تبدیلی کی جانب آگے بڑھنے پر بھی مشاورت کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ اے پی سی میں مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تاہم ن لیگ اور پیپلز پارٹی دھرنے میں شرکت پر اپنی جماعتوں میں مشاورت کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد مریم نواز دھرنے سے خطاب کر سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منظور کرلی ہے جس کے بعد کل ان کی رہائی متوقع ہے۔ مزید پڑھیں۔۔۔

حکومت اور رہبر کمیٹی کی فضل الرحمان کے گھر پر ملاقات، بریک تھرو نہ ہوسکا

حکومتی کمیٹی نے ہمارے مطالبات سنے اور کافی ڈسکشن ہوئی: اکرم درانی کی میڈیا سے گفتگو— فوٹو: پی پی آئی 

حکومتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پر ملاقات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات میں وزیراعظم کے استعفے پر پہلی بار بات ہوئی۔

مذاکرات میں دونوں جانب سے مطالبات سامنے رکھے گئے جس پر اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔مزید پڑھیں۔۔۔ 

فضل الرحمان کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس

فوٹو: اسکرین گریب

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیرز کانفرنس ہوئی۔

مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور  پر احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ ایچ 9 کے گراؤنڈ میں مارچ کا قیام ابھی جاری رہے گا۔

اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں کا اعلان مولانا فضل الرحمان مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کریں گے۔

اے پی سی میں اتفاق کیا گیا ہے کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مل کر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے دوران کہا کہ چھوٹے مفادات کو عوامی مشکلات پر ترجیح نہ دیں، کیا حکمرانوں کے خلاف احتجاج صرف جے یو آئی ف کا فیصلہ تھا؟  آپ سب مل کر عوامی حکمرانی کے لیے ٹھوس ، جامع حکمت عملی بنائیں، خدارا عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں، آپ خلوص دل سے حکمت عملی بنائیں، جے یو آئی ف آپ کا ہر اول دستہ ہوگی، خواہش ہے کہ تمام جمہوری قوتیں مل کر کردار ادا کریں۔

آفتاب احمد خان شیرپاؤ، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار اے پی سی میں شریک ہوئے لیکن مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف شریک نہیں ہوئے، ن لیگ کے وفد کی سربراہی سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔


بلاول بھٹو زرداری بھی جنوبی پنجاب کے دورے کے باعث اے پی سی میں شرکت نہیں ہوئے۔ پیپلز  پارٹی کی طرف سے راجا پرویز اشرف، نیئر بخاری، نوید قمر اور فرحت اللہ بابر اے پی سی میں شریک ہوئے۔

ترجمان مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے بعد کوئی میڈیا ٹاک یا پریس کانفرنس نہیں ہو گی بلکہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے جلسے میں اے پی سی کے فیصلوں کا اعلان کریں گے۔

آزادی مارچ کے بعد ہائی ویز کو بند کردیں گے: اکرم درانی

دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم درانی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا تھا 500 لوگ کہیں تو استعفیٰ دے دوں گا، ہم اس الیکشن میں 9 اپوزیشن جماعتوں کے 4 کروڑ 72 لاکھ لوگ سامنے لے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو، شہبازشریف اور دیگر جماعتوں کے قائدین اپنے ووٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں، شہبازشریف اور بلاول بھٹو دونوں کی مجبوریاں تھیں جس وجہ سے وہ نہیں آئے۔

اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا عمران خان کے خلاف ہے، ہم جمہوری لوگ ہیں، احتجاج کے دوران ایک گملا یا پتہ نہیں ٹوٹا، آزادی مارچ کے بعد ہائی ویز، اضلاع اور ملک کو بند کردیں گے اور جیل بھرو تحریک بھی شروع کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پوری اپوزیشن آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، لوگوں کے اتنے بڑے مجمع پر طاقت کے استعمال کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

48 گھنٹے کا الٹی میٹم

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ نے 27 اکتوبر کو کراچی سے سفر کا آغاز کیا تھا، آزادی مارچ کا قافلہ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا 31 نومبر کی رات اسلام آباد پہنچا تھا۔

یکم نومبر کو  آزادی مارچ کے شرکاء سے مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور بلاول بھٹو سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا تھا۔

یکم نومبر کو جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا جو کل ختم ہو چکا ہے۔

مولانا نے میلا لوٹ لیا ہے: چوہدری شجاعت

گزشتہ روز مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے انہیں اپوزیشن کی سربراہی پر مبارکباد پیش کی تھی۔ 

چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مولانا نے میلا لوٹ لیا ہے، وہ تدبر کے ساتھ معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات حل کرنے چاہئیں۔

الیکشن کمیشن تو ہم سے زیادہ بے بس ہے: مولانا فضل الرحمان

ڈیڈ لائن ختم ہونے اور آزادی مارچ کے چوتھے روز خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا الیکشن کمیشن جائیں اور وہاں اپنی شکایت درج کرائیں، الیکشن کمیشن بیچارہ تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے، اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو قوم کی اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ اس قومی اسمبلی میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی الیکشن کمیشن میں نہیں جانا، کسی عدالت میں نہیں جانا اور دھاندلی کی تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کرے گی،کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس کی نہ میٹنگ ہوئی اور نہ رولز بنیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کا کیس زیر سماعت ہے اور وہ 5 سال سے اس کیس کا فیصلہ نہیں کرسکے تو دھاندلی کا کیسے فیصلہ کرے گا؟ تم لوگوں سے احتساب مانگتے ہو لیکن خود احتساب دینے کو تیار نہیں، یہ پوری پارٹی و ٹبر چور ہے، قابل احتساب پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کر رہی ہے۔

حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس میں مشورہ دیا کہ ہمیں سنجیدگی سے مولانا کے ساتھ مذاکرات کرکے حل نکالنا چاہیے اور بات چیت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان ابھی تک اپنے معاہدہ پر قائم ہیں تو ہمیں بات کرنی چاہیے، ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اس دوران حکومتی کمیٹی کے سربراہ و وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

اس موقع پر وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ تمام فورسز تیار ہیں، کسی بھی حالات سے نمٹیں گے۔

اسلام آباد میں پولیس اور ایف سی تعینات

گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہا تھا کہ ڈی چوک جانے سمیت کئی تجاویز زیرغور ہیں۔

ذرائع کے مطابق سربراہ جے یو آئی کے اعلان کے بعد زیروپوائنٹ اور ریڈ زون جانے والے راستوں پر سیکیورٹی الرٹ کردی گئی ہے، پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام نفری کو آنسوگیس کے شیل اور دیگر سامان فراہم کردیاگیا جبکہ دوسرے صوبوں سے مزید پولیس کی نفری بھی اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔


مزید خبریں :