Can't connect right now! retry

پاکستان
14 فروری ، 2020

چین سے طلبہ کی واپسی سے متعلق ریاستی پالیسی میں مداخلت نہیں کریں گے، عدالت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چین میں موجود پاکستانی شہریوں کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران والدین سے رابطے کے لیے حکومت کو فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چین میں زیرتعلیم طلبہ اور شہریوں کو واپس لانے کی درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

اس دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ طلبہ نے اِس کورٹ سے براہ راست رابطہ کیا ہے، چین میں موجود طلبہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔

اس پر حکومتی نمائندے کا کہنا تھا کہ چینی حکومت کے ساتھ مل کر جوائنٹ ورکنگ گروپ بنایا ہے اور تمام انفرادی شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ عجیب بات ہےکہ اگرباقی ممالک اپنے شہریوں کو نکال رہے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ وہ ممالک رسک لے رہے ہیں یا ہماری اتنی استعداد نہیں؟

ڈائریکٹر جنرل فارن افیئرز نے جواب دیا کہ چینی حکومت کی ایڈوائس ہےکہ شہریوں کو نکالنا رسک ہوگا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جن طلبہ کی ای میلز آئیں وہ کورونا وائرس سے متاثرہ نہیں، وہ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ بھی اپریل تک وہاں پھنسے رہیں گے؟ عدالت ریاست کی پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی مگر حکومت چین میں پھنسے پاکستانیوں کے خاندانوں کو کم ازکم تسلی تو دے۔

ڈی جی فارن افیئرز نے جواب دیا کہ 2 سفارتکاروں کو چین کے متاثرہ شہر ووہان بھجوایا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اس معاملے کی حساسیت کا علم رکھتی ہے، حکومت نے 20 کروڑ پاکستانیوں کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔

ڈی جی فارن افیئرز نے معزز عدالت کو بتایا کہ چین میں روزانہ کورونا وائرس سے متاثر 100 افراد کی اموات ہورہی ہیں اور سیکڑوں افراد روزانہ مہلک وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 64 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

کمرہ عدالت میں والدین کی دہائی

اس موقع پر چین میں پھنسے بچوں کے والدین نے کمرہ عدالت میں دہائی دی اور کہا کہ کیا حکومت اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ ہمارے بچے مرجائیں؟ یونیورسٹی نےہمارے بچوں کو کہا کہ آپ ہماری طرف سے فری ہیں، چینی حکام نےبچوں کو کہا آپ کی حکومت آپ کو واپس نہیں بلانا چاہتی۔

والدین نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہےجس طرح باقی ممالک نے اپنے شہریوں کو نکالا، ایسے ہی پاکستان بھی شہریوں کو واپس لائے۔

ڈائریکٹر جنرل فارن افیئرز نے عدالت کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اور چین کی حکومت ووہان سےکسی کو نکلنےکی اجازت نہیں دے رہی، ووہان سے کوئی نہیں نکل سکتا، وہاں سے انٹرنیشنل فلائٹس بھی بند ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سفیر بھجوایا ہے جو بذریعہ فلائٹ قریبی شہر میں لینڈ کریں گے، وہاں سےبذریعہ سڑک 8 سے 10 گھنٹے کی مسافت طے کرکے متاثرہ شہر ووہان پہنچیں گے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومتی نمائندے سے کہا کہ ایسا کوئی میکنزم بنائیں کہ بچوں کے والدین آپ سے براہ راست رابطہ کر سکیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیزپاکستانیوں سے ان کی ملاقات کرائیں۔

اس پر حکومتی نمائندے نے جواب دیا کہ میکنزم بنائیں گے کہ روزانہ صبح 11 بجے بچوں کے والدین سے حکومتی آفیشلز ملاقات کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فارن آفس میں والدین کے داخلے میں مشکلات ہوں گی، آپ کسی ایسی جگہ کا تعین کریں جہاں ان کی رسائی ممکن ہو سکے۔

ڈی جی فارن افیئرز نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 18 فروری کو والدین کی زلفی بخاری اور ظفرمرزا سے ملاقات کرادیں گے۔

اس دوران عدالت نے فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ چین کے شہر ووہان سے دنیا بھر میں پھیلنے والے مہلک وائرس کورونا سے اب تک 1400 سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ ہزاروں افراد اِس سے متاثر ہیں۔ 

یہ وائرس دنیا کے 20 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور اب تک چین کے علاوہ دیگر ملکوں میں بھی سیکڑوں افراد متاثر ہیں۔ 

دوسری جانب چین کے شہر ووہان میں 500 سے زائد پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں جنہوں نے حکومت سے وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم حکومت نے طلبہ کو واپس لانے سے انکار کیا تھا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM