Can't connect right now! retry

بلاگ
04 جولائی ، 2020

وہ میرے نانا ہیں !

فوٹو فائل—

تصویریں نہ صرف بولتی ہیں بلکہ ایک ہی لمحے میں برسوں کی داستان سنا دیتی ہیں۔ تصویریں ہنساتی اور رلاتی ہیں، تصویر کا ایک کِلک یادوں کا دروازہ وا کر دیتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خون سے رنگا رنگ نانا کے اوپر بیٹے نواسے کی تصویر نے بےچین کرکے رکھ دیا، کیا آج کی دنیا میں ایسی بربریت ممکن ہے؟ کیا اس تصویر نے انسانیت کو جھنجھوڑ نہیں دیا ہو گا؟

میں نے تو جب سے یہ تصویر دیکھی ہے میں اپنی چشم تصور میں بار بار اسی منظر کو دیکھ رہا ہوں۔ کبھی وہ شہید نانا مجھے بشیر احمد لگتا ہے اور کبھی مجھے وہی تصویر بدل کر اپنے نانا چودھری رحمت خان وڑائچ کی شبیہ نظر آتی ہے۔

کبھی ہاتھ میں پتھر پکڑے بھارتی فوج کی طرف بڑھتا بچہ، کشمیری مزاحمت کا استعارہ لگتا ہے تو کبھی میں خود کو اس بچے کے روپ میں دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اگر میں اس امتحان سے گزرتا تو کیا میں بھی پتھر لیکر بھارتی فوجی کو اس طرح مارنے دوڑتا؟ بالکل ایسا ہی ہوتا، دنیا کا کوئی بھی نواسہ ہو وہ اپنے نانا کے لئے ایسا ہی کرتا۔

نانا شیریں اور میٹھا رشتہ ہوتا ہے، نانا کی نواسوں اور نواسیوں کے لئے محبت بےریا ہوتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بشیر احمد اور اس کے نواسے کی تصویر کشمیر میں جاری ظلم وستم کی پوری داستان کو بیان کرتی ہے۔

نہتا بشیر احمد خون میں لت پت سڑک پر پڑا ہے، سامنے آٹو میٹک گن سے فائر کرنے والا وحشی بھی موجود ہے اور ساتھ ہی معصومیت کا پتلا نواسہ بھی۔ جسے زندگی اور موت کے سربستہ رازوں کا شاید علم نہ ہو مگر اسے یہ ضرور علم ہے کہ میرے نانا کو ٹھاہ ٹھاہ کرنے والا انسان میرے نانا کا دشمن ہے۔

شعور کی لہر (STREAM OF CONSCIOUSNESS) آپ کو چائے کے کپ سے چائے کے سبز کھیتوں اور پھر اس میں کام کرنے والے سیاہ فام غلاموں کی کہانی تک لے جاتی ہے۔ اس تصویر نے شعور کی لہر میں سفر در سفر یادوں کو جنم دیا۔

کشمیری نانا سے مجھے اپنے گجراتی نانا چودھری رحمت خان یاد آ گئے جو میری انگلی پکڑ کر جوہر آباد کے بازار سے مجھے کیک رس (میری توتلی زبان میں ’’کیک چچ‘‘ کہنے پر آج بھی میرے گھر میں مذاق اڑایا جاتا ہے) دلاتے، خود کبھی قمر ہوٹل اور کبھی شیخ ہوٹل میں چائے پیتے۔ اس زمانے میں ہوٹلوں میں محفل آرائی کا فیشن ہوتا تھا، چائے کی پیالی پر محفلیں جمتیں اور اظہارِ خیال ہوتا تھا۔ کشمیری نواسہ اپنے نانا کو بڑے پاپا کہتا تھا اور میں اپنے نانا کو ’’بو جی‘‘۔

میرے نانا کو مشن اسکول وزیر آباد میں مولوی سید میر حسن اور بعد ازاں اسلامیہ کالج میں علامہ محمد اقبال سے پڑھنے کا شرف حاصل تھا۔ مارماڈیوک پکتھال کا انگریزی ترجمے والا قرآن پڑھتے اور قائداعظم اور اقبال کو اپنا رہنما مانتے تحریک پاکستان کا ہر مخالف انہیں برا لگتا تھا۔ کل ہی پرانے کاغذات میں ان کے قائد اعظم فنڈ کیلئے 1947ء میں دیئے گئے ٹکٹوں کی دریافت ہوئی ہے۔

یادیں ایسے ہی نہیں آتیں، ایک یاد دوسری یاد سے جڑی ہوتی ہے۔ کشمیر گجرات کے پڑوس میں ہے، اس لئے اول اول جب کشمیری مسلمان ڈوگرہ مہاراجا کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ہجرت کرتے تو ان کا پہلا پڑائو جلالپور جٹاں ہوتا۔

وہاں کے ذیلدار چودھری مظفر خان وڑائچ (گل نواز وڑائچ کے والد اور معین نواز وڑائچ کے دادا) اور میرے دادا چودھری علی بخش وڑائچ ان کو بسنے میں مدد دیتے۔ دادا کی کشمیر سے یہ کمٹمنٹ اتنی پکی تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد 25سال تک اسکول میں خدمات انجام دیں اور جو تنخواہ ملتی وہ کشمیر فنڈ میں دے دیتے۔

ہم جتنے بھی بے حس ہوں ان یادوں میں ہی رہتے اور بستے ہیں، کشمیر میں اس طرح کا ظلم ہوگا تو ہم کیسے کشمیر کو یاد نہیں کریں گے۔

کشمیر جنت نظیر کے حوالے سے میرے مشفق سرپرست صاحبزادہ سرور کیانی بڑے دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے، وہ پرنس آف ویلز کالج جموں میں پڑھتے رہے تھے۔

چناروں کی آگ اور ڈل جھیل کے نظاروں کی کہانیاں کیسے بھلائیں؟ پھر میری یادداشت میں بے بے جی کا وہ سفر بھی ہے جب وہ شادی کے بعد ہنی مون منانے کشمیر گئی تھیں اور اس زمانے میں کشتی کی سیر کا جو احوال انہوں نے بیان کیا تھا وہ فلم کے مناظر کی طرح اب بھی آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔

ننھا کشمیری نواسہ عیاد ہو، بچپن کا بِلّو (یعنی میں) یا پھر دنیا کا کوئی بھی بچہ، یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ انسان کا سرخ خون بہانے والا کوئی ہم جیسا انسان ہی ہوگا۔

اگر اس صیّاد اور جلاد کی شکل انسانوں جیسی بھی ہوگی تو عیاد یہی سوچے گا کہ کم از کم اس کا خون سرخ نہیں سفید ہوگا۔ جب ظلم ہوتا ہے تو وہ کبھی یادوں سے محو نہیں ہوتا۔

کشمیر میں ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ کر بھارت کیسے وہاں امن کی توقع کر سکتا ہے؟ دنیا میں جہاں بھی ایسا ہوا ہے اس کا ردعمل آتا ہے، نفرت پیدا ہوتی ہے اور پھر کوئی نہ کوئی سبیل پیدا ہو جاتی ہے۔

میں اکثر کشمیر پر سوچتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ 70سال سے بھارت کی سرتوڑ کوششوں، سیاسی رشوتوں اور ظلم و ستم کے باوجود ابھی تک کشمیریوں کی بھاری اکثریت کیوں باغی ہے؟ مجھے اس کا جواب یہی سمجھ میں آتا ہے کہ کشمیری اپنی زبان، مذہب اور ثقافت کی وجہ سے پاکستانیوں کے بہت قریب ہیں، وہ ہماری خبریں سنتے ہیں، ہماری کتابیں پڑھتے ہیں، ہمارے ساتھ جیتے اور مرتے ہیں، ہم اگر چاہیں بھی تو انہیں اپنے آپ سے الگ نہیں کر سکتے۔

نانا بشیر احمد کی شہادت فی الحال تو ذاتی المیہ ہے جس سے ہر آنکھ اشکبار ہوئی ہے مگر کشمیر ہمارا اجتماعی المیہ ہے، برصغیر میں بسنے والے لوگ ذہنی طور پر اپنے تنازعات کو خود حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ان کے بحرانوں کا حل غیر ملکی حملہ آور اور قابض ہی نکالتے رہے ہیں۔ بھارت میں اہل فکر و نظر کو سوچنا چاہئے کہ وحشت اور بربریت کا بازار گرم کرنے سے کیا مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا یا یہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مجھے یقین ہے کہ فرعون کے گھر موسیٰ ضرور پیدا ہوگا اور بھارت کے اندر ہی سے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھے گی۔ آخر کیوں نہ اٹھے، کیا بھارت میں انسان نہیں بستے؟ کیا وہاں انسانوں کا خون سرخ نہیں سفید ہے؟ کیا وہاں حق، سچ کی بات کرنے والا کوئی بھی نہیں بچا؟


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM