Can't connect right now! retry

پاکستان
17 ستمبر ، 2020

آصف زرداری کی تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: احتساب عدالت نے تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی آصف زرداری کی درخواستوں  پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے آصف زرداری کی 3 ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی جس سلسلے میں سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے۔

سابق صدر نے پارک لین، منی لانڈرنگ اور ٹھٹھہ واٹرسپلائی کے ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستیں دائر کی ہیں۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے مؤقف اپنایا کہ پہلے ادھورا اور پھر مکمل چالان فوجداری مقدمات میں جمع ہوتا ہے، نیب آرڈیننس میں پہلےادھورا اورپھر مکمل چالان جمع کرانے کی گنجائش نہیں، ضمنی ریفرنس صرف نیب کی بدنیتی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

فاروق نائیک نےکہا کہ عدالت کو ریفرنس کے قابل سماعت ہونے کی وجوہات بھی بتانا ہوتی ہیں، اس عدالت نے ضمنی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے کا کوئی آرڈر جاری نہیں کیا لہٰذا عدالت ضمنی ریفرنس میں آصف زرداری کی طلبی کا نوٹس واپس لے۔

فاروق نائیک نے تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر دلائل مکمل کیے جس کے بعد نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے دلائل دیے اور آصف زرداری کی تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی۔

مظفر عباسی نے اپنے دلائل میں کہا کہ کہیں پرکسی قانون میں نہیں لکھا کہ ضمنی ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا، فاروق نائیک نےایک بھی قانون کا حوالہ نہیں دیا جس میں ایسا لکھا ہو، سیکشن 16 کے مطابق ایک کیس کسی دوسری جگہ منتقل بھی ہوسکتا ہے۔

سردار مظفر نےکہا کہ عدالت جو طلبی کے نوٹس جاری کرتی ہے وہ عدالت کا آرڈر ہی ہوتا ہے، طلبی کےنوٹس کا مطلب ہوتا ہےکہ کیس کو عدالت نے قابل سماعت سمجھ لیاہے۔

بعد ازاں عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری کی 3 مقدمات میں ضمنی ریفرنس خارج کرنےکی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کل سنایا جائے گا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM