Can't connect right now! retry

پاکستان
24 ستمبر ، 2020

موٹروے زیادتی کیس: خاتون کے اتنی رات کو نکلنے کی وجہ سامنے آگئی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں عمر شیخ کا کہنا تھاکہ رات کے وقت عورت کے سفرکی وجہ اس کے شوہرکا میکے سے اپنے گھر آنے کا دباؤ تھا— فوٹو: فائل

موٹروے زیادتی کیس میں کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او ) لاہور عمر شیخ کا ایک اور بیان سامنے آگیا۔

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین ریاض فتیانہ کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے موٹر وے واقعے پر بریفنگ دیتے ہوئے رات کے وقت عورت کے سفر کی وجہ شوہر کو قرار دے دیا، ان کا کہنا تھا کہ رات کے وقت عورت کے سفرکی وجہ اس کے شوہرکا میکے سے اپنے گھر آنے کا دباؤ تھا۔

سی سی پی اونے بتایا کہ ہیلپ لائن 130 پر کال کے 45 منٹ بعد تک کوئی متاثرہ خاتون کی مدد کو نہ پہنچا،رات 2:47 پر راہگیر نے خاتون کے ساتھ کسی کی ہاتھا پائی ہونے کی اطلاع 15پر دی، اگر پولیس کی 15 پر بروقت کال کر دی جاتی تو واقعہ پیش نہ آتا۔

عمر شخ نے کہا کہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے پولیس کی 25 ٹیمیں سائنسی بنیادوں پر کام کررہی ہیں،وہ کوئی ایسا بڑا ملزم نہیں لگتا جس کی سرپرستی کوئی سیاستدان یا بااثرشخص کرتا ہو، ملزم اکیلا ہی بھاگ رہا ہے، اگر اس کی پشت پر کوئی ہوتا تو وہ خود اس کے ذریعے گرفتاری دے دیتا۔

اس موقع پر کمیٹی کے رکن  احسان ٹوانہ نے کہا کہ صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ کسی مافیا کے پیچھے کوئی بیوروکریٹ یا پولیس والا بھی ہو سکتا ہے۔

 اس پر عمر شیخ نے کہاکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک اشتہاری شہباز بھنڈر محسن شاہنواز کے ڈیرے سے پکڑا گیا تھا۔ 

اس پر ن لیگ کے محسن شاہنواز نے کمیٹی اجلاس میں احتجاج کیا اور کہا کہ عمر شیخ پچھلے دور میں میرے پاس بہتر تقرری کے لیے سفارش کے لیے آئے تھے۔

 اس موقع پر  محسن شاہنواز  اور پیپلز پارٹی کی رکن نفیسہ شاہ کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی جسے چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کاروائی سے حذف کردیا جب کہ سی سی پی او عمر شیخ نے محسن شاہنواز کا نام لینے پر معذرت کرلی۔

 چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے تجویز دی کہ پوری دنیا کی طرح ہیلپ لائن کا ایسا نظام لانا چاہیے کہ  کال کے ساتھ لوکیشن بھی آئے۔ 

خیال رہے کہ رواں ماہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر رات ڈیڑھ بجے کے قریب خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

واقعے کا ایک ملزم شفقت پولیس کی تحویل میں ہے جب کہ مبینہ مرکزی ملزم عابد 15 روز بعد بھی پولیس کی پہنچ سے دور ہے۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اس واقعے پر ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ یہ خاتون رات 12 بجے لاہور ڈیفنس سے گوجرانولہ جانے کے لیے نکلی ہیں، حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہے، اکیلی ڈرائیور ہونے کے باجود وہ جی ٹی روڈ سے کیوں گجرانوالہ نہیں گئیں؟ اکیلی خاتون کو آدھی رات کو موٹروے سے جانے کی ضرورت کیا تھی، وہ جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئيں جہاں آبادی تھی؟

اس بیان پر ملک بھر میں مذمت کی گئی تھی اور عمر شیخ سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھاتاہم انہوں نے اپنے اس بیان پر معافی مانگ لی تھی جب کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے عمر شیخ کو نامناسب بیان پر طلب کیا تھا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM