12 مارچ ، 2021
میں جمہوریت ہوں۔ آپ سب نے میرے بارے میں سنا ہوگا اور شاید مجھے دیکھا بھی ہو۔ میرا نام جمہور سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے عوام۔ قدیم ملک یونان نے مجھے پہلی بار ایک نظام کے طور پر اپنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں میرے چرچے ہونے لگے۔ پچھلے چند برسوں سے میرے حالات کچھ بہتر نہیں ہیں اور میرا مستقبل اب خطرے میں نظر آتا ہے۔ کہیں تو مجھے ہٹلر کی طرح ایک جھٹکے میں اکھاڑ کے پھینک دیا جاتا ہے اور کہیں آہستہ آہستہ میری سانسیں اس طرح سے اکھاڑی جاتی ہیں کہ عوام کو خبر تک نہ ہو۔
بچاری عوام یہ سمجھتی ہے کہ جمہوریت کا خاتمہ تب ہی ہوگا جب کسی وردی والے کی حکمرانی ہوگی یا سڑکوں پر ٹینکوں اور سپاہیوں کی روانی ہوگی۔ کسی وزیراعظم کو پھانسی ہوگی یا پھر اداروں کی کھلے عام نافرمانی ہوگی۔ یہ معصوم عوام یہ نہیں جانتے کہ میری سب سے بڑی دشمن آمریت اب کھلم کھلا فاشزم، یا فوجی حکمرانی کی صورت میں نظر نہیں آتی۔ بلکہ یہ میرا ہی لبادہ پہنے سسٹم کا اس طرح سے حصہ بنتی جا رہی ہے کہ لوگ پہچان نہیں پاتے۔
میرا خاتمہ تو اب بیلٹ باکس سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ میری حفاظت کے لیے آئین بنتے ہیں، قانون ساز ادارے قائم کیے جاتے ہیں، میڈیا اور عدالتیں ہوتی ہیں، عوام کی نمائندگی کے لیے پارلیمان ہوتا ہے۔ اخبار بھی چھپتے ہیں اور ووٹ بھی ڈلتے ہیں۔ اس کے باوجود، میری ہی وجہ سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاست دان اپنے ہی ہاتھوں سے میرا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جو گھر گھر جا کر ووٹ مانگتے ہیں اور ہر الیکشن سے پہلے جمہوریت کو بحال کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جمہوری عمل سے گزر کر آئے ہوئے یہ سیاست دان اس بات کے ذمہ دار ہوتے ہیں کہ سسٹم میں غیر جمہوری عناصر کو نہ داخل ہونے دیں لیکن انتخابی عمل کے ذریعے، اپنے مفادات اور اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے سیاست دان اور معاشرے کے الیٹس آمرانہ سوچ کے لیڈران کو سسٹم میں جگہ دیتے ہیں۔
اپنی کتاب “The Breakdown Of Democracy” میں مشہور سیاسی دانشور Juan Linz کہتے ہیں کہ سیاست دان اپنے رویوں سے یا تو جمہوریت کو بحال کر سکتے یا پھر اسے خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ آمرانہ مزاج کے لوگوں کو سسٹم سے دور رکھنے کا پہلا قدم ان کی نشاندہی کرنا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک اور کتاب “How Democracies Die” میں چار طرح کے طرز عمل کی انتباہ کی گئی ہے جن سے ایسے لوگوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے.
پہلے تو یہ لوگ الیکشن کی شفافیت اور الیکشن عمل پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور حکومت کو گرانے کے غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے سیاسی مخالفوں کو چور، ڈاکو، غدار ملک دشمن اور غیر ملکی ایجنٹ جیسے الفاظ سے پکارتے ہیں حتیٰ کہ ان کی سیاسی حیثیت کو ماننے سے بھی انکار کرتے ہیں۔
تیسرا یہ کہ آمرانہ طرز کے لیڈران اپنے مخالفوں پر تشدد اور طاقت کے استعمال کو ترغیب دیتے ہیں اور آخر ی میں جمہوریت اور آمریت پسند لیڈران میں فرق کرنے کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایسی Policies اور قوانین کی حمایت کرتے ہیں جو عوام اور میڈیا کی آزادی کو محدود کردے اور اپنے پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں کرنے کی بھی دھمکیاں دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان ممالک یا حکومتوں کو بھی سراہتے ہیں جہاں جابرانہ پالیسیز کو فروغ دیا جاتا ہے۔
ایسے آمریت پسند لیڈران جب سسٹم میں داخل ہو جاتے ہیں تو وہ میرا لبادہ پہنے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ حکومت بنانے کے بعد یہ جمہوری اداروں کو اپنے مقاصد اور اپنے مخالفین کے خاتمے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قانونی اور آئینی حربے استعمال کر کے یہ لیڈران مجھے ایسے اقدامات کے ذریعے نقصان پہنچاتے ہیں جو عدالتیں اور قانون ساز اداروں سے منظور ہوجاتے ہیں۔ دراصل یہ تمام اقدامات میرے قیام اور بقا کے بجائے اپنے مفادات حاصل کرنے اور اپنی Authority قائم کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور نتیجتاً اس سے جمہوری ادارے کمزور ہوجاتے ہیں۔
آج سے پہلے مجھے اپنے کھونے کا خوف کبھی اس قدر محسوس نہیں ہوا۔ آج ماہر سیاسیات، سیاست دان، اور میرے محافظ ادارے میری حقیقی شکل کی تلاش میں متحرک ہیں اور میرے مستقبل کے لیے پریشان ہیں۔ ان سب سے میری گزارش ہے کہ میں ایک سوچ ہوں اور جب تک مجھے لوگ اپنے ذہنوں میں پوری طرح سے تسلیم نہیں کر لیں گے وہ کبھی مجھے حقیقی طور پہ حاصل نہیں کر پائیں گے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔