بغیرکسی خوف اور دباؤ کے بطور چیف جسٹس فرائض اداکیے، جسٹس گلزار احمد

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمدکا کہنا ہےکہ بغیرکسی خوف اور دباؤ کے بطور چیف جسٹس فرائض اداکیے، آئین میں چیک اینڈ بیلنس نظام موجودہے تاکہ ریاست کا ہر ستون بہترکام کرسکے۔

اسلام آباد میں اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی سے سپریم کورٹ میں تاریخ رقم ہوئی ہے، کورونا کے دوران بہت دباؤ تھا لیکن عدالت نے اپنا کام جاری رکھا، اسلام آباد میں ماڈل جیل کے قیام اور جیلوں میں سہولیات کی فراہمی کے لیے ہدایات دیں۔

نامزد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ججز اپنی اصلاح کرتے ہیں اسی لیے جسٹس فائزعیسٰی کیس میں اقلیت اکثریت میں بدلی، عدالتی فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان مچایا گیا،سوشل میڈیا پر ججز کے خلاف ذاتی تنقید کی جا رہی ہے، جو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے، بار ججز پر تنقید کے خلاف کردار اداکرے، اس سے پہلےکہ عدالت نوٹس لے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ تمام عدالتوں کو پرفارمنس آڈٹ کرنا ہوگا تاکہ کمزوریوں کی نشاندہی ہو سکے، تحقیقات اور پراسیکیوشن میں اصلاحات، مقدمات جلد نمٹانے کے لیے ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غربت، بے روزگاری اور آبادی میں اضافے کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھنا ہوگا،عدالت کی جہاں بھی ضرورت محسوس ہوئی اپنا کردار ادا کرے گی۔


مزید خبریں :