Time 27 مئی ، 2022
پاکستان

اپنے فائدے کیلئے ملزم کیسے ترمیم کر سکتا ہے؟ ای سی ایل رولز میں ترمیم کا طریقہ کار طلب

وفاقی وزراء پر ابھی صرف الزامات ہیں لیکن کیا کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ وزیر ملزم ہو تو متعلقہ فائل اس کے پاس نہ جائے؟ جسٹس منیب اختر۔ فوٹو: فائل
 وفاقی وزراء پر ابھی صرف الزامات ہیں لیکن کیا کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ وزیر ملزم ہو تو متعلقہ فائل اس کے پاس نہ جائے؟ جسٹس منیب اختر۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی۔

تحقیقاتی اداروں میں حکومت کی مبینہ مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب، ای سی ایل رول 2010 کا سیکشن 2 پڑھیں، رولز کے مطابق کرپشن، دہشتگردی، ٹیکس نادہندہ اور لون ڈیفالٹر باہر نہیں جا سکتے، کابینہ نے کس کے کہنے پر کرپشن اور ٹیکس نادہندگان والے رول میں ترمیم کی؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی کابینہ نے رولز کی منظوری دی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے منٹس پیش کر دوں گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا 120 دن بعد ازخود نام ای سی ایل سے نکل جائے گا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 120 دن کا اطلاق ای سی ایل میں شامل ہونے کے دن سے ہو گا۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ کابینہ کے ارکان خود اس ترمیم سے مستفید ہوئے، کابینہ ارکان اپنے ذاتی فائدے کے لیے ترمیم کیسے کر سکتے ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جانتے ہیں کہ وفاقی وزراء پر ابھی صرف الزامات ہیں لیکن کیا کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ وزیر ملزم ہو تو متعلقہ فائل اس کے پاس نہ جائے؟

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپنے فائدے کے لیے ملزم کیسے رولز میں ترمیم کر سکتا ہے؟ جبکہ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزم وزراء کو تو خود ہی ایسے اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا سرکولیشن سمری کے ذریعے ایسی منظوری لی جا سکتی ہے؟ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد نظر ثانی کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا، کیا ای سی ایل رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ دیکھ لیتے ہیں کہ وہ ممبران جن کے نام ای سی ایل میں تھے ترمیم والی کمیٹی اجلاس میں تھے یا نہیں؟ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟

چیف جسٹس نے ای سی ایل سے نکالے گئے کابینہ اراکین کی فہرست طلب کرتے ہوئے کہا کہ رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فی الحال ای سی ایل رولز میں ترمیم سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے لیے کچھ ضوابط ضروری ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، لیکن ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی۔

مزید خبریں :