ناسا کے چاند پر بھیجے گئے تاریخی مشن نے نیا ریکارڈ بنادیا

اورین نے 1970 کے اپولو 13 مشن کا ریکارڈ توڑ دیا ہے / فوٹو شکریہ ناسا
اورین نے 1970 کے اپولو 13 مشن کا ریکارڈ توڑ دیا ہے / فوٹو شکریہ ناسا

آرٹیمس 1 مشن کے اورین اسپیس کرافٹ نے ایک نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔

اورین کیپسول چاند کے دور دراز مدار پر پہنچنے والا ناسا کا پہلا ایسا اسپیس کرافٹ ہے جسے انسانوں کو لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اورین نے 1970 کے اپولو 13 مشن کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور وہ زمین سے اب تک 2 لاکھ 58 ہزار 706 میل دور تک سفر کرچکا ہے۔

اورین اسپیس کرافٹ کے منیجر Jim Geffre نے بتایا کہ آرٹیمس 1 مشن کو ایسے ڈیزائن کیا گیا تاکہ اورین کے سسٹمز کی آزمائش ہوسکے اور چاند کے اس حصے کے مدار میں داخل ہونے سے اس کا اچھا عندیہ ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپولو 13 کے ریکارڈ کو توڑنے میں کامیاب رہے مگر سب اہم بات یہ ہے کہ ہم کھوج کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اسپیس کرافٹ کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ دور بھیج رہے ہیں۔

اپولو 13 نے زمین سے 2 لاکھ 48 ہزار 655 میل کے فاصلے تک سفر کا ریکارڈ بنایا تھا مگر ایسا مجبوری میں ہوا کیونکہ ایک دھماکے کے باعث ناسا کو مشن کے لیے نئے روٹ کا انتخاب کرنا پڑا۔

اورین اسپیس کرافٹ نے حال ہی میں چاند کے قریب پرواز کی تھی اور اب اس کا مشن لگ بھگ آدھا مکمل ہوچکا ہے اور جلد اس کی زمین پر واپسی کا سفر شروع ہوگا۔

سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ اسپیس کرافٹ 11 دسمبر کو واپس پہنچے گا۔

آرٹیمس 1 مشن کی کامیابی مستقبل میں چاند کے لیے انسانی مشنز کی راہ ہموار کرے گی۔

آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔

آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM