Time 24 جنوری ، 2023
صحت و سائنس

روزمرہ کی غذا میں شامل وہ عام چیز جو ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بن رہی ہے

اقوام متحدہ کی جانب سے ایک رپورٹ میں اس بارے میں بتایا گیا / فائل فوٹو
اقوام متحدہ کی جانب سے ایک رپورٹ میں اس بارے میں بتایا گیا / فائل فوٹو

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کھانا پکانے والے تیل کی تیاری کے لیے استعمال کی جانے والی مصنوعی چکنائی کے باعث ہر سال 5 لاکھ افراد قبل از وقت ہلاک ہوجاتے ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں 5 ارب کے قریب افراد کو اس طرح کی چکنائی سے تحفظ حاصل نہیں جس کے نتیجے میں ان میں امراض قلب اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری گلوبل ٹرانس فیٹ ایلیمینشن نامی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر کی حکومتوں کو صنعتی طور پر تیار کی جانے والی چکنائی یا ٹرانس فیٹس پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس قسم کی چکنائی کھانے پکانے کے تیل، پیکج فوڈ اور بیکری کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے جس سے خون کی شریانیں بلاک ہوجاتی ہیں۔

خیال رہے کہ ٹرانس فیٹس چکنائی کی ایسی قسم ہے جسے شیلف میں رکھی غذاؤں کے ذائقے اور مدت کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ٹرانس فیٹس کے استعمال کے نتیجے میں عالمی سطح پر ہر سال امراض قلب کے نتیجے میں 5 لاکھ قبل از وقت اموات ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ مصنوعی چکنائی خون میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتی ہے جس سے امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

البتہ رپورٹ میں کچھ اقسام کے گوشت اور دودھ سے بنی مصنوعات میں پائے جانے والے قدرتی ٹرانس فیٹس کو نقصان دہ قرار نہیں دیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ ٹرانس فیٹس کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ صحت کے لیے خطرات بہت زیادہ ہیں جس کے نتیجے میں طبی نظام پر مالی بوجھ بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانس فیٹس کی روک تھام سے طبی اخراجات میں کمی آئے گی جبکہ لوگوں کی صحت کو بھی فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانس فیٹس ایسا زہریلا کیمیائی مادہ ہے جو موت کا باعث بنتا ہے اور اسے خوراک کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ٹرانس فیٹس کے نتیجے میں پاکستان سمیت 16 ممالک کے شہری سب سے زیادہ امراض قلب کے شکار ہورہے ہیں۔

ان 16 میں سے 9 ممالک میں ٹرانس فیٹس کی روک تھام کے لیے بہترین پالیسیاں موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا، آذربائیجان، بھوٹان، ایکواڈور، مصر، ایران، نیپال، پاکستان اور جمہوریہ کوریا وہ ممالک ہیں جہاں ٹرانس فیٹس کی روک تھام کے لیے بہتر پالیسیوں کا نفاذ نہیں ہوا اور اس کے نتیجے میں ان ممالک میں امراض قلب سے اموات بڑھ رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 60 ممالک میں اس حوالے سے کسی قسم کی پالیسی کا نفاذ ہوا ہے جن میں سے 43 ممالک میں ٹرانس فیٹس کی تیاری کی روک تھام کے لیے بہترین عملی پالیسیوں پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

ان ممالک میں 2.8 ارب افراد مقیم ہیں، مگر دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگوں کو تحفظ حاصل نہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ٹرانس فیٹس کی روک تھام کے لیے پیشرفت رکنے کا خطرہ ہے جس کے نتیجے میں یہ چکنائی لوگوں کو ہلاک کرتی رہے گی، مگر دنیا کی ہر حکومت بہترین عملی پالیسیوں کے نفاذ سے ان اموات کی روک تھام کرسکتی ہے۔۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہر ملک میں قومی سطح پرغذاؤں میں موجود چکنائی کی ہر 100 گرام مقدار میں ٹرانس فیٹس کی مقدار 2 گرام تک محدود کی جانی چاہیے یا اس کی تیاری پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے یا ہائیڈروجن سے تیار شدہ تیل (یہ بھی ٹرانس فیٹس کا بڑا ذریعہ ہے) پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔