Election 2024 Election 2024

وہ انوکھی جھیل جو جانداروں کے جسم کو 'پتھر' بنا دیتی ہے

یہ جھیل افریقی ملک تنزانیہ میں واقع ہے / فائل فوٹو
یہ جھیل افریقی ملک تنزانیہ میں واقع ہے / فائل فوٹو

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کی ایک جھیل ایسی ہے جو جانوروں کے اجسام کو 'پتھر' میں تبدیل کر دیتی ہے۔

جی ہاں واقعی افریقی ملک تنزانیہ کے شمال میں واقع جھیل ناٹرون میں اگر کوئی جاندار گر جائے اور کسی وجہ سے باہر نہ نکل سکے تو اس کا جسم پتھر جیسی شکل میں حنوط ہو کر محفوظ ہو سکتا ہے۔

ویسے اگر کوئی انسان اس سرخی مائل جھیل میں گر جائے تو فوری طور پر تو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا مگر اس میں غوطہ لگانے کا تجربہ بھی خوشگوار نہیں ہوگا۔

کچھ عرصے پہلے  ایک فوٹوگرافر نے وہاں پتھر جیسے مردہ پرندوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں جو وائرل ہوگئی تھیں۔

تو کیا یہ جھیل جان لیوا ہے؟

اس جھیل کے حوالے سے متعدد کہانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر اسے جان لیوا نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ یہ کچھ جانداروں کا گھر بھی ہے جن میں فلیمنگو نامی پرندہ سب سے نمایاں ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس جھیل کے پانی میں تیزابیت کسی بلیچ جیسی ہوتی ہے اور اس کے پانیوں میں کوئی بہت زیادہ دیر تک زندہ رہ نہیں سکتا۔

یہ جھیل ایک ایسے آتش فشانی سلسلے کے دہانے پر ہے جو واحد آتش فشاں ہے جس کا لاوا Natrocarbonatite پر مشتمل ہے، جس کے باعث اس جھیل میں سوڈیم کاربونیٹ اور دیگر منرلز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

اس کے نتیجے میں جھیل کے پانی کا رنگ سرخی مائل ہو جاتا ہے جبکہ وہ بہت زیادہ نمکین بھی ہے۔

یہی تیزابیت بیشتر جانداروں کی جلد اور آنکھوں کو جلا دیتی ہے اور بہت زیادہ دیر تک رہنے پر موت واقع ہو جاتی ہے۔

اگر کوئی انسان جھیل میں چھلانگ لگا دے تو کیا ہوگا؟

یہ جھیل ان پرندوں کا گھر ہے / سوشل میڈیا فوٹو
یہ جھیل ان پرندوں کا گھر ہے / سوشل میڈیا فوٹو

فلمینگو ایسا پرندہ ہے جس کی جِلد بہت سخت ہوتی ہے جو اسے جھیل کے پانی سے تحفظ فراہم کرتی ہے مگر انسانی جِلد نرم ہوتی ہے اور اس جھیل کا پانی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس جھیل کا پانی ہی کئی بار کافی گرم ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں نمک کے ذرات کی دھار کافی تیز ہوتی ہے۔

نمکین ہونے کی وجہ سے کوئی انسان اس جھیل میں گر جائے تو وہ فوراً ہی پتھر کا نہیں بن جائے گا مگر جسم میں کوئی خراش یا کٹ ہوا تو بہت زیادہ تکلیف ہوگی۔

اس سے ہٹ کر تیزابیت کی وجہ سے پانی میں جتنی دیر رہیں گے جِلد اتنی زیادہ جل جائے گی۔

اگر جسم اس جھیل میں ڈوب جائے تو کیا ہوگا؟

بہت زیادہ تک اس جھیل کے پانی میں رہنے کا انجام اچھا نہیں ہوتا / سوشل میڈیا فوٹو
بہت زیادہ تک اس جھیل کے پانی میں رہنے کا انجام اچھا نہیں ہوتا / سوشل میڈیا فوٹو

یہ تو ابھی واضح نہیں کہ فوٹوگرافر نے جو تصاویر کھینچی تھیں، وہ پرندے اس جھیل میں کیسے پہنچے۔

ایک امکان تو یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد جھیل کے پانی میں گر گئے جبکہ دوسرا خیال یہ ہے کہ جھیل کی شیشے جیسی منفرد سطح کئی بار پرندوں کو جھیل کے اندر غوطہ لگانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

جب کسی مردہ جاندار کا جسم جھیل کے پانی کے اندر جاتا ہے تو اس میں موجود نمک کی زیادہ مقدار جسم کو گلنے نہیں دیتی یا یوں کہہ لیں کہ حنوط کر دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جھیل کے پانی کے منرلز اور نمک جانداروں کے جسم کو خشک کرکے حنوط کر دیتے ہیں۔

ویسے یہاں جانا منع نہیں مگر جھیل سے کچھ دوری برقرار رکھ کر اس کا نظارہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔

مزید خبریں :