دنیا کے خاموش ترین کمرے میں چند منٹ گزارنا بھی مشکل

مائیکرو سافٹ نے یہ کمرہ تیار کیا ہے / فوٹو بشکریہ مائیکرو سافٹ
مائیکرو سافٹ نے یہ کمرہ تیار کیا ہے / فوٹو بشکریہ مائیکرو سافٹ

دنیا کے خاموش ترین کمرے میں کوئی فرد ایک گھنٹہ بھی گزار نہیں سکتا۔

ویسے تو زندگی میں شور شرابا کس کو پسند ہو سکتا ہے مگر مکمل خاموشی بھی انسانوں کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ کی آڈیو لیب کے اندر ایک چیمبر یا کمرہ موجود ہے جسے گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کا خاموش ترین کمرہ قرار دیا ہے۔

یہ ایسا عجیب مقام ہے جس کے اندر جانے کے بعد لوگوں کا ذہن گھوم جاتا ہے اور انہیں عجیب عجیب واہمے ہونے لگتے ہیں۔

ورجینیا میں مائیکرو سافٹ کے ہیڈ کوارٹر میں دنیا کا خاموش ترین کمرہ موجود ہے جس میں قدم رکھتے ہی باہر کا تمام شور غائب ہو جاتا ہے۔

درحقیقت وہاں تو کوئی بھی آواز جیسے دل دھڑکنے سے بھی عجیب خوفناک احساس ہوتا ہے۔

اس کمرے کے ڈیزائنر Hundraj Gopal کے مطابق جیسے ہی کوئی فرد اس کمرے میں داخل ہوتا ہے تو اسے ایک عجیب اور منفرد احساس ہوتا ہے جس کی وضاحت الفاظ میں کرنا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر افراد کو مکمل خاموشی کے باعث کان بند ہونے کا احساس ہوتا ہے یا کچھ کو لگتا ہے جیسے گھنٹیاں بج رہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہلکی سی آواز بھی بہت زیادہ بلند محسوس ہوتی ہے، آپ وہاں اپنی سانس کو سن سکتے ہیں، جسم کی حرکت کو سن سکتے ہیں اور اپنی دھڑکنوں کو سن سکتے ہیں۔

مگر جب آپ اپنی سانس یا دھڑکن کو سنتے ہیں تو پھر کچھ عجیب محسوس ہونے لگتا ہے۔

ڈیزائنر نے بتایا کہ اس کمرے کے اندر سب سے زیادہ وقت گزارنے کا ریکارڈ 55 منٹ کا ہے مگر زیادہ تر افراد تو چند سیکنڈ بعد ہی باہر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں۔

یعنی اپنے اعضا کی آواز سننے کا احساس کوئی اچھا تجربہ نہیں ہوتا خاص طور پر دنیا کے خاموش ترین کمرے کے اندر بغیر روشنی کے یہ احساس دہشت زدہ کر دیتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آواز کے بغیر لوگوں کے لیے اپنا توازن برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں ہوتا تو کمرے کے اندر روشنی بند کر دی جاتی ہے تاکہ لوگ بیٹھ جائیں۔

اس کمرے کی تیاری کے لیے کنکریٹ اور اسٹیل کی 6 تہیں استعمال کی گئی تھیں جبکہ ارتعاش کو قابو میں رکھنے والے اسپرنگز لگائے گئے۔

کمرے کی دیواروں اور چھت کو فائبر گلاس سے کور کیا گیا ہے جبکہ فرش میں آوازیں جذب کرنے والی تاریں موجود ہیں۔

ویسے اس کمرے تک عام افراد کی رسائی ممکن نہیں بلکہ اسے مختلف آڈیو ڈیوائسز جیسے مائیکرو فونز، ریسیورز اور اسپیکرز کی آزمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔