Time 10 جولائی ، 2023
سائنس و ٹیکنالوجی

گوگل کے 'اے آئی ڈاکٹر' کی آزمائش مختلف اسپتالوں میں جاری

اس اے آئی بوٹ کی آزمائش کی جا رہی ہے / فائل فوٹو
اس اے آئی بوٹ کی آزمائش کی جا رہی ہے / فائل فوٹو

تصور کریں کہ آپ کسی طبی مرکز جاتے ہیں اور وہاں ایک ڈاکٹر کی بجائے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سافٹ وئیر آپ کا معائنہ کرے تو کیا ہوگا؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ایسا مستقبل قریب میں ممکن ہونے والا ہے اور آپ کا معائنہ ایک 'اے آئی ڈاکٹر' کرے گا۔

گوگل کی جانب سے میڈیکل اے آئی چیٹ بوٹ میڈ پام 2 کا ٹرائل مختلف اسپتالوں میں کیا جا رہا ہے جن میں سے ایک امریکا کا معروف مایو کلینک ریسرچ ہاسپٹل بھی ہے۔

میڈ پام 2 ایک جدید ترین اے آئی ٹول ہے جو سوالات کرنے پر طبی تفصیلات اور حل فراہم کرتا ہے۔

گوگل کی جانب سے مئی میں سالانہ ڈویلپر کانفرنس کے موقع پر اس اے آئی ٹول کا اعلان کیا گیا تھا۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس چیٹ بوٹ کی ٹریننگ کے لیے کمپنی نے طبی ماہرین کے ڈیٹا کا احتیاط سے انتخاب کیا تاکہ اس ٹول کی طبی نگہداشت سے متعلق بات چیت کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

گوگل کو توقع ہے کہ یہ اے آئی ٹول ایسے خطوں میں انتہائی مفید ثابت ہو سکے گا جہاں ڈاکٹروں تک رسائی بہت مشکل سے ہوتی ہے۔

مئی میں اس حوالے سے گوگل کی جانب سے جاری ایک تحقیقی مقالے میں بتایا گیا تھا کہ اس چیٹ بوٹ کی تفصیلات مستند ہونے کے حوالے سے کچھ خدشات ہیں اور ٹرائل کے دوران بھی ڈاکٹروں نے کچھ خامیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔

مگر ان خامیوں کے باوجود میڈ پام 2 کی جانب سے متعدد حوالوں سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور یہ ٹول کافی حد تک حقیقی ڈاکٹروں کی طرح کام کرتا ہے۔

یہ اے آئی ٹول ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور مستقبل قریب میں اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس ٹول کے آزمائشی ڈیٹا کا کنٹرول اسپتالوں کے پاس ہے اور گوگل کو اس تک رسائی حاصل نہیں۔