Election 2024 Election 2024

کیا آپ کے ہاتھ پیر ہمیشہ ٹھنڈے رہتے ہیں؟ تو اس کی وجہ جان لیں

کیا آپ کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے / فائل فوٹو
کیا آپ کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے / فائل فوٹو

ویسے تو موسم سرد ہونے کے ساتھ ہاتھ پیر ٹھنڈے رہنا غیر معمولی بات نہیں، مگر کیا ہر وقت اس کا تجربہ ہوتا ہے؟

اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں۔

ویسے تو اکثر یہ فکرمندی کی بات نہیں ہوتی مگر ہر وقت ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں ٹھنڈی رہنا کسی طبی مسئلے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دیگر علامات جیسے انگلیوں کی رنگت یا ساخت تبدیل ہو جائے تو یہ کسی بڑے طبی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہمارے ہاتھ اور پیر دل سے کافی دور ہیں اور ان کی شریانیں بھی کافی چھوٹی ہوتی ہیں، جس کے باعث ان تک خون کا بہاؤ کم ہوتا ہے، جس کے باعث انگلیوں کا ٹھنڈا ہونا غیر معمولی نہیں ہوتا۔

مگر کئی بار مختلف امراض کے باعث ہاتھ پیر ٹھنڈے رہتے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

خون کی کمی

خون کی کمی کے مسئلے کا سامنا اکثر جسم میں آئرن کی مقدار گھٹ جانے کے باعث ہوتا ہے۔

آئرن کی کمی سے خون کے سرخ خلیات کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور جسم کے مختلف حصوں کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خون کی کمی کے شکار افراد کے ہاتھ پیر ہر وقت ٹھنڈے رہتے ہیں۔

شریانوں کے امراض

شریانوں کے متعدد امراض ہوتے ہیں، مگر ان سب سے شریانیں سکڑ جاتی ہیں، جس کے باعث ہاتھوں اور پیروں کو خون کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے۔

ذیابیطس

ذیابیطس کے باعث خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے جس سے ہاتھ اور پیر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔

ذیابیطس سے امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جس سے شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بلڈ شوگر کی سطح بڑھنے سے ہاتھوں اور پیروں میں سوئیاں چبھنے کا احساس بھی ہوتا ہے جس سے بھی ہاتھوں اور پیروں کی حرارت متاثر ہوتی ہے۔

تھائی رائیڈ امراض

تھائی رائیڈ امراض کی ایک علامت ہر وقت ہاتھوں اور پیروں کا ٹھنڈے رہنا ہوتا ہے۔

وٹامن بی 12 کی کمی

وٹامن بی 12 کی کمی سے اعصابی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے جس کے باعث ہاتھ پیر ٹھنڈے رہنے کا تجربہ ہوتا ہے۔

اگر آپ کے ہاتھ پیر ہر وقت ٹھنڈے رہتے ہیں تو یہ وٹامن بی 12 کی کمی کے ساتھ ساتھ کسی اور بیماری کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، تو ان حالات میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

مزید خبریں :