28 فروری ، 2025
ڈپریشن اور انزائٹی جیسے عام ترین دماغی امراض سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنالیں۔
یہ بات چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
Fudan یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں کو بڑھانے سے انزائٹی، ڈپریشن اور ڈیمینشیا جیسے دماغی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
درحقیقت جسمانی سرگرمیاں چاہے جیسی بھی ہوں، ان سے دماغ کو تحفظ ملتا ہے۔
اس تحقیق میں 73 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جو accelerometer کے ذریعے اکٹھا کیا گیا تھا۔
ان افراد کی اوسط عمر 56 سال تھی اور ڈیٹا میں جائزہ لیا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دماغی امراض کے خطرے میں کس حد تک کمی آتی ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں میں اضافے اور بیٹھ کر گزارے جانے والے وقت میں کمی سے ڈپریشن اور ڈیمینشیا جیسے عام دماغی امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
محققین کے مطابق نتائج حیران کن نہیں کیونکہ ماضی میں بھی مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ورزش یا جسمانی سرگرمیاں دماغی صحت کے لیے بہت زیادہ مفید کیوں ہیں ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے خیال میں ڈپریشن صرف ایک مرض نہیں بلکہ اس کی متعدد ذیلی اقسام ہیں جن کا سامنا مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ ورزش سے میٹابولک افعال ریگولیٹ ہوتے ہیں جبکہ جسمانی ورم میں کمی آتی ہے اور یہ ورم اکثر ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔
محققین کے مطابق تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ بیٹھ کر کم وقت گزاریں اور جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنا عادت بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی سرگرمیوں جیسے چہل قدمی یا گھر کے کاموں سے کیلوریز کو جلانے میں مدد ملتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کو بھی تحفظ ملتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ ضروری نہیں کہ آپ جم جانا شروع کر دیں درحقیقت ہر قسم کی جسمانی سرگرمیوں سے دماغ کو فائدہ ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ ڈپریشن اور انزائٹی ایسے امراض ہیں جن سے موجودہ عہد میں ہر عمر کے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
ڈپریشن یا انزائٹی کے شکار افراد کو دماغی اور جسمانی دونوں طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔