Time 27 فروری ، 2025
صحت و سائنس

چائے پینے کی عادت کا ایک اور بہترین فائدہ دریافت

چائے پینے کی عادت کا ایک اور بہترین فائدہ دریافت
ایک تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا / فائل فوٹو 

چائے پینے کی عادت کو متعدد طبی فوائد سے منسلک کیا جتا ہے جیسے امراض قلب کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جبکہ جسمانی ورم بھی کم ہوتا ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں اس گرم مشروب کے ایک اور فائدے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے کو پکانے کے عمل کے دوران پانی کو مضر مواد سے پاک کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے کو پکانے سے پانی میں موجود Lead سمیت دیگر مضر دھاتیں مالیکیولز کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور صحت کے لیے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتیں۔

تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ چائے پکانے کا عام عمل کس حد تک صحت پر اثرات مرتب کرتا ہے۔

اس مقصد کے لیے محققین نے جائزہ لیا کہ سبز، سیاہ یا دیگر اقسام کی چائے پکانے کے دوران پانی میں موجود بھاری دھاتیں کس حد تک جذب ہوتی ہیں۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے پانی میں مختلف دھاتوں کو شامل کیا اور پھر پانی کو اتنا گرم کیا کہ وہ ابل جائے۔

اس کے بعد پانی میں چائے کی پتی یا ٹی بیگز کو شامل کیا گیا اور کچھ سیکنڈز سے لے کر 24 گھنٹے تک لے لیے چھوڑ  کر ابالا گیا، جس کے بعد دیکھا گیا کہ پانی میں دھاتوں کی کتنی مقدار باقی رہ گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سیلولوز ٹی بیگز دھاتوں کے حوالے سے زیادہ بہترین ثابت ہوتے ہیں جبکہ کاٹن یا نائیلون کے ٹی بیگز بہت کم مقدار میں دھاتوں کو جذب کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق چائے کی اقسام بھی اس حوالے سے اثر انداز ہوتی ہیں خاص طور پر سیاہ چائے کی پتی زیادہ دھاتوں کو جذب کرتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق چائے کو ابالنے کے عمل سے ہی پانی میں موجود 15 فیصد Lead جذب ہو جاتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ اگر آپ ایک کپ پانی کو چائے کی پتی کے ساتھ 3 سے 5 منٹ تک ابالتے ہیں تو پانی کافی حد تک صاف ہو جاتا ہے۔

البتہ پانی کو جتنا زیادہ ابالا جائے گا، اتنا زیادہ بہتر ہوگا۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل ACS Food Science & Technology میں شائع ہوئے۔

چائے میں کیفین، فلورائیڈ اور فلیونولز سمیت متعدد غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو صحت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا ہے کہ چائے پینے سے امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

کچھ عرصے قبل چین کی سیچوان یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چائے پینے کی عادت سے حیاتیاتی عمر بڑھنے کی رفتار سست ہو جاتی ہے، خاص طور پر معتدل مقدار میں اس مشروب کو پینے والے افراد میں یہ اثر دیکھنے میں آتا ہے۔

خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔

جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ روزانہ 3 کپ چائے پینے سے بڑھاپے کی جانب سفر کو سست کیا جا سکتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ آپ خود کو طویل عرصے تک جوان رکھ سکتے ہیں۔

مزید خبریں :