03 اپریل ، 2025
اکثر افراد چینی کے استعمال سے موٹاپے اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بڑھنے کے خدشے پر مصنوعی مٹھاس یا سویٹنر کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں مگر یہ عادت بھی جسمانی وزن میں اضافہ کرسکتی ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سویٹنر کو زیادہ استعمال کرنے سے بھوک کی شدت بڑھ جاتی ہے جس سے لوگ زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں اور جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق sucralose نامی سویٹنر دماغ کو کم کھانے کا سگنل دینے کی بجائے کھانے کی اشتہا کو بڑھا دیتا ہے۔
درحقیقت تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کسی کولڈ ڈرنک کی بجائے پانی میں اس سویٹنر کو استعمال کرنے سے ہی کھانے کی اشتہا میں لگ بھگ 20 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 75 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور انہیں پانی، چینی ملا پانی اور سویٹنر ملا پانی مختلف مواقعوں میں پینے کی ہدایت کی گئی۔
ہر بار محققین نے صارفین کے خالی پیٹ بلڈ شوگر لیول کو چیک کیا جبکہ دماغی اسکین کیے تاکہ دماغ کے مختلف حصوں میں خون کے بہاؤ کو ٹریک کرسکیں۔
چینی ملے پانی میں 75 گرام چینی کو ملایا گیا تھا جو ایک کولڈ ڈرنک کے برابر مٹھاس ہے۔
دوسرے گلاس میں سویٹنر کی مناسب مقدار کو ملایا گیا جبکہ تیسرا پانی کا گلاس سادہ تھا۔
دماغی اسکین کے دوران محققین نے پانی یا دیگر مشروبات پینے کے 10 منٹ، 35 منٹ اور 120 منٹ بعد خون کے نمونے اکٹھے کیے اور لوگوں سے بھوک کی سطح کے بارے میں پوچھا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ چینی ملے پانی کے مقابلے میں سویٹنر والا پانی پینے سے لوگوں کی بھوک میں 17 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ سویٹنر کے استعمال سے فیصلہ سازی کی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے بہت احتیاط سے ہر چیز کا تجزیہ کیا گیا۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میٹابولزم میں شائع ہوئے۔
مئی 2023 میں عالمی ادارہ صحت نے مصنوعی مٹھاس کو مضر صحت قرار دیا تھا۔
عالمی ادارے کی جانب سے اس موقع پر مصنوعی مٹھاس کے حوالے سے جاری گائیڈ لائنز میں کہا گیا تھا کہ سویٹنر سے وزن گھٹانے میں مدد نہیں ملتی بلکہ امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جب کہ اس کی کوئی غذائی افادیت بھی نہیں۔