پاکستان
20 مئی ، 2014

قانون شکن فردایم کیوایم کی صفوں میں برداشت نہیں کیا جائے گا،الطاف حسین

 قانون شکن فردایم کیوایم کی صفوں میں برداشت نہیں کیا جائے گا،الطاف حسین

لندن…متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے واضح اوردوٹوک الفا ظ میں کہاہے کہ کوئی بھی قانون شکن فردایم کیوایم کی صفوں میں برداشت نہیں کیا جائے گا اوراگریہ اطلاع ملی کہ کچھ عناصر ایم کیوایم کی صفوں میں شامل ہوکرقانون ہاتھ میں لے رہے ہیں توایسے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اوران کے خلاف تنظیمی نظم وضبط کے مطابق سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بات منگل کی شب ایم کیوایم کے تنظیمی شعبہ جات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں رابطہ کمیٹی لندن پاکستان، کراچی تنظیمی کمیٹی ،پختون آرگنائزنگ کمیٹی اوردیگرشعبہ جات کے ارکان نے شرکت کی،الطا ف حسین نے اس اہم اجلاس سے اپنے خطاب میں کہاکہ ایم کیوایم حقوق سے محروم مہاجروں اوردیگرمظلوموں کے حقوق کے حصول کیلئے وجود میں آئی اوراس نے اپنے قیام کے روزاول سے ہی تحریک کے مشن ومقصد کیلئے پرامن جدوجہد کی تبلیغ کی ۔ ایم کیوایم نے اپنی صفوں میں کبھی بھی جرائم پیشہ عناصر کوبرداشت نہیں کیا، لوگوں نے بھی قانون شکنی کی یاجن کے بارے میں بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی شکایات موصول ہوئیں اورجب تحقیقات کے بعدیہ شکایات درست ثابت ہوئیں توانہیں فی الفورتحریک سے خارج کردیاگیا، ایم کیوایم کے حق پرستانہ نظریہ کی خاطر ہزاروں شہیدوں نے اپنے لہوکانذرانہ پیش کیاہے ،شہیدوں کالہوہم پرایک قرض ہے اور شہیدوں کے اس لہو کو چند قانون شکن عناصر کی خاطرضائع نہیں ہونے دیاجائے گا۔ الطا ف حسین نے رابطہ کمیٹی کوسختی سے ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کی صفوں میں شامل کوئی بھی فرداگرقانون شکنی کرے یاقانون ہاتھ میں لے تواس کی کسی بھی قیمت پر کوئی حمایت یاسفارش نہ کی جائے ۔ الطا ف حسین نے کہا کہ اگرمیرا کوئی بھائی،بہن،عزیز،رشتہ دار بھی قانون شکنی کرے تو اس کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہ کی جائے بلکہ اس کے ساتھ بھی قانون کے تحت نمٹا جائے، میں کسی کی سفارش نہیں کروں گا۔ انہوں نے رابطہ کمیٹی اورکراچی تنظیمی کمیٹی کوہدایت کی کہ تنظیم کی صفوں میں ہرسطح پر ڈسپلن کی پابندی کویقینی بنایاجائے ، ایم کیوایم کے سوشل میڈیا ونگ کوبھی تاکیدکی کہ وہ قومی اداروں کااحترام کریں، سوشل میڈیامیں اپنے پیغامات میں شائستگی اورادب کادامن ہرقیمت پر تھامے رکھیں اورکسی کے خلاف بھی ناشائستہ زبان یاالفاظ استعمال کرنے سے گریزکریں۔

مزید خبریں :