-----

پاکستان کا بدلتا سیاسی منظر نامہ

Pakistan Ka Badalna Siasi Manzar Nama

یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی معاملات اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سےبڑھ رہے ہیں، وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد نواز شریف کی جے آئی ٹی میں طلبی اور ان کا بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش ہونا اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

تین گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد وزیر اعظم نے انتہائی پر اعتماد انداز میں جس طرح میڈیا سے گفتگو کی وہ انہی کا خاصہ ہے، ان کا یہ کہنا کہ سب یاد رکھیں کہ عوامی جے آئی ٹی اور عدالت بھی لگنے والی ہے،بہت زیادہ معنی خیز ہے اور اپنے سیاسی مخالفین کے لیے ان کا یہی اصل پیغام ہے۔

ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ان کے خاندان کا تین پشتوں سے احتساب کیا جا رہا ہے، سب جانتے ہیں کہ میثاق جمہوریت سے پہلے میاں صاحب اور بی بی صاحبہ ایک دوسرے کی مخالفت میں کس حد تک نہیں گئے،جنرل پرویز مشرف نے شریف فیملی کا کس بری طرح احتساب کیا۔

آج ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ کا بیان پڑھ کر بے ساختہ ہنسی آ گئی ،انہوں نے فرمایا کہ نواز شریف کےبچے کس طرح ارب پتی بن گئے، ان صاحب کو دیکھنا چاہیے کہ وہ خود آخر کس طرح ارب پتی بن گئے، ان کا تو شریف فیملی کی طرح کا کاروباری پس منظر بھی نہیں ہے۔

تحریک انصاف میں ایسے افراد تیزی سے شامل ہو رہے ہیں جن کو چلے ہوئے کارتوس کہا جاتا ہے، کوئی ہمیں بتائے کہ انقلاب کہاں گیا؟ کیا یہی کھوٹے سکے نیا پاکستان بنائیں گے؟ کسی نے اس کا جواب دیا کہ نون لیگ میں بھی ایسے لوگ ہیں تو مجھے ان پر ہنسی آ گئی کہ بھیا نون لیگ نے کب اور کہاں نئے پاکستان کا نعرہ لگایا؟

ایسے افراد کا تیزی سے وفاداری تبدیل کرنا بھی دال میں کچھ نہیں کافی کچھ کالا ظاہر کرتا ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی جے آئی ٹی میں پیش ہو گئے،انہوں نے کہا کہ ایک منتخب وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے پیش ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔

خواجہ آصف کا یہ دلچسپ بیان بھی آئندہ کے سیاسی منظر نامے کو واضح کر رہا ہے کہ تحریک انصاف جلد سابق صدر آصف زرداری کو اپنی پارٹی کا سرپرست اعلیٰ بنا دے گی اور ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف میں ضم ہو جائے۔

سن 1967ء میں لاہور میں بننے والی یہ عظیم تاریخ کی حامل پارٹی قیادت کے بدترین بحران سے دوچار ہے، عظیم بھٹو کو دشمن نہ مار سکا لیکن اپنوں کے ہاتھوں ان کو مار دیا گیا۔

ایک بڑے غیر ملکی نشریاتی ادارے کی یہ رپورٹ بھی حقیقت احوال بتا رہی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اقتصادی طور پر ابھر رہا ہے، جمہوریت کو ایسے عناصر کے ہاتھوں کمزور کیا جا رہا ہے جو بظاہر جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہیں لیکن پس پردہ کچھ اور ہی ہیں۔

صرف کٹھ پتلی کی طرچ ناچ رہے ہیں اور ان کے نادان پیروکار حالات کی سنگینی کا احساس کیے بغیر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے جا رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے 1971 ءسے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، حال ہی میں بہترین میڈیا ایجوکیشنسٹ بھی قرار پائے ہیں)