Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
15 نومبر ، 2017

پرویز خٹک نے جلد انتخابات کا عمران خان کا مطالبہ مسترد کر دیا

چیرمین تحریک انصاف عمران خان کئی بار قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرچکے ہیں لیکن ان ہی کی جماعت کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اس مطالبے کو مسترد کرچکے ہیں۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قبل از وقت عام انتخابات کرانے کے مطالبے کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس کی بجائے، کونسل کے اجلاس میں جس بات پر اتفاق کیا گیا اس پر عملدرآمد کی صورت میں ملک میں عام انتخابات قبل از وقت کرانے کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور پرویز خٹک سمیت تمام وزرائے اعلیٰ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عام انتخابات آئندہ سال اپنے وقت پر ہوں گے۔ 

عمران خان قبل از وقت الیکشن چاہتے ہیں جبکہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے نہ صرف پی ٹی آئی چیئرمین کے مطالبے کو مسترد کیا ہے بلکہ یہ اصرار بھی کیا ہے کہ حکومت اپنی مدت مکمل کرے اور الیکشن آئندہ سال کے وسط میں اپنے وقت پر ہونا چاہئیں۔

تاہم، یہ بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک، جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قبل از وقت الیکشن کا ذکر تک نہیں کیا۔ 

اس کے برعکس، اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ آئینی ترمیم لائی جائے گی جس کے تحت  2018ء کے عام انتخابات 2017ء کی مردم شماری کی بنیاد پر کرائے جائیں گے اور الیکشن کمیشن 2017ء کی مردم شماری کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات کے لئے انتخابی حلقہ بندیوں کا کام مکمل کرے گا، حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہونے میں 5 سے 6 ماہ لگیں گے۔ 

مشترکہ مفادات کونسل کے معاہدے کے مطابق، 2017ء کی مردم شماری کے عبوری نتائج کا حتمی اعلان جلد کیا جائے گا تاکہ عام انتخابات 2017ء کی مردم شماری کے نتائج کے مطابق ہو سکیں۔ 

کونسل نے جس باتوں پر اتفاق کیا ہے ان پر عمل کی صورت میں جلد عام انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔

ابتدائی طور پر پیپلز پارٹی مردم شماری پر اپنے تحفظات کی وجہ سے آئینی ترمیم کیلئے تیار نہیں تھی لیکن پیر کو وزیراعلیٰ سندھ نے مشروط انداز سے حکومت کے حلقہ بندیوں کے قانون برائے 2017ء کی حمایت کی اور مردم شماری کے عبوری نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرانے پر اتفاق کیا۔ 

مشترکہ مفادات کونسل نے وزیراعلیٰ سندھ کی یہ شرط قبول کرلی کہ 2017ء کی مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے تمام صوبوں کے ایک فیصد علاقوں کی تیسرے فریق سے تصدیق کرائی جائے گی۔

حد بندیوں کے قانون 2017ء (ڈی لمیٹیشن بل) کے تحت، اگرچہ عام نشستوں کی تعداد 272 ہی رکھی جائے گی لیکن صوبوں کے ایلوکیشن میں مردم شماری کے نتائج کے مطابق تبدیلی کی جائے گی۔ 

پنجاب کی سات عام اور دو مخصوص نشستیں کم ہوں گی، خیبرپختونخوا کی نشستوں میں پانچ کا اضافہ ہوگا جس میں چار عام اور ایک مخصوصی نشست ہوگی، بلوچستان میں تین عام اور ایک مخصوص نشست کے ساتھ مجموعی طور پر تین سیٹوں کا اضافہ ہوگا۔

اسلام آباد کے لئے قومی اسمبلی کی ایک نشست بڑھ جائے گی جبکہ سندھ اور فاٹا کے لئے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

قومی اسمبلی کی پنجاب سے نشستوں میں بھی کمی ہوگی اور یہ 148 سے کم ہو کر 141 ہوجائیں گی جبکہ خواتین کے لئے مخصوص نشستیں 35 سےکم ہو کر 33 ہوجائیں گی۔

نوٹ: یہ خبر 15 نومبر کے روزنامہ جنگ میں شائع ہوئی ہے۔

Advertisement