کاروبار
01 جون ، 2012

نئے بجٹ میں انکم ٹیکس کی چھوٹ میں 50ہزار کا اضافہ

نئے بجٹ میں انکم ٹیکس کی چھوٹ میں 50ہزار کا اضافہ

اسلام آباد… حکومت نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں انکم ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں آج مختلف رعایات دینے جارہی ہے ، تجویز کئے گئے اقدامات میں انکم ٹیکس دینے والوں کو رعایت دینے کے ساتھ سیلز ٹیکس کی مساوی شرح 16 فی صد کی جا رہی ہے ۔ آج اعلان کئے جانے والے وفاقی بجٹ کے حوالے سے وفاقی وزیرخزانہ کی تقریر کیلئے تیار کیا گیا مسودہ جیو نیوز کو مل گیا ہے، اس میں تجویز کیا جارہا ہے کہ انکم ٹیکس کی چھوٹ میں 50 ہزار کا اضافہ کیا جارہا ہے، اب 4 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس ہوگا، انکم ٹیکس کے سلیبس 5 کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ماہانہ 35 ہزار روپے تن خواہ پر سالانہ ایک ہزار روپے انکم ٹیکس ہوگا، کمپنیوں سے 5 لاکھ روپے تک قرض پر 13 فیصد انکم ٹیکس کی مکمل چھوٹ تجویز کی گئی ہے۔ ٹیکس اونر کارڈ متعارف کرایا جائے گا جس سے سرکاری اداروں میں سہولت ملے گی، ٹرن اوور ٹیکس کی شرح کو نصف کیا جا رہا ہے، پریزیمٹیو ٹیکس کو 3 سال میں ختم کیا جائے گا، درآمد کنندگان پر ٹیکس 5 کی بجائے 3 فی صد اور برآمد کنندگان پر 1 فی صد ٹیکس کو نصف فیصد کیا جائے گا، بینک سے 25 ہزار روپے کیش پر چھوٹ کی حد 50 ہزار کی جارہی ہے، اشیاء پر سیلز ٹیکس کی مساوی شرح 16 فی صد کی جا رہی ہے، مقامی تیار کردہ کاغذ اور بنولہ گھی پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے، چائے پر 16 فیصد سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کیا جارہا ہے، کسٹم ڈیوٹی کی بلند ترین شرح 35 کی بجائے 30 فیصد ہوگی۔ اس کے علاوہ پنسل، کاپی، سیاہی وغیرہ پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 100 روپے فی ٹن کمی کی جا رہی ہے، سیمنٹ کارخانے میں جلانے کے اسکریپ پر کسٹم ڈیوٹی 20 کی بجائے 10 فیصد ہوگی، ادویات کی تیاری کے 94 خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جار رہی ہے، موبل آئل، بیس آئل، لیوبریکنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کر رہے ہیں، لائیو اسٹاک انشورنس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر رہے ہیں، اثاثہ مینجمنٹ کمپنی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر رہے ہیں، اسٹیل کے کارخانے کی بجلی مہنگی کرنے کی تجویز ہے، اس شعبے کی بجلی پر فی یونٹ سیلز ٹیکس 6 سے بڑھا کر 8 روپے کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں :