Can't connect right now! retry

سندھ میں کورونا کے ایک اور کیس کی تصدیق، ملک میں مجموعی تعداد 22 ہوگئی

کراچی: سندھ میں کورونا وائرس کا ایک اور مریض سامنے آگیا جس کے بعد صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 16 ہوگئی۔

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق 52 سال کے شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور متاثرہ شخص 2 روز قبل اسلام آباد سے کراچی پہنچا تھا۔

محکمہ صحت کا بتانا ہےکہ  کورونا وائرس کے 13 مریض آئسولیشن وارڈز میں زیر علاج ہیں جب کہ 2 مریض صحتیاب ہوکر ڈسچارج کیے جاچکے ہیں۔

سندھ میں کورونا وائرس کے نئے کیس کی تصدیق کے بعد ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی ہے جن میں سے گلگت بلتستان میں 3،کراچی سمیت سندھ میں 16، اسلام آباد میں 2 جب کہ کوئٹہ میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔

سندھ میں 30 مئی تک تعلیمی اداروں میں تعطیلات

دوسر ی جانب سندھ کابینہ نے کورونا وائرس کے پیش نظر گرمیوں کی چھٹیاں یکم مارچ تا 30 مئی تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی میٹرک کے امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ مزید پڑھیں۔۔

پی ایس ایل میچز خالی اسٹیڈیم میں کرانے کا فیصلہ

اس کے علاوہ سندھ حکومت نے  پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کے کراچی میں ہونے والے میچز کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے کہ میچز بغیر شائقین کے خالی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ مزید پڑھیں۔۔

چین سے دنیا میں پھیلنے والا ’کورونا وائرس‘ اصل میں ہے کیا؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

ماہرین صحت کی ہدایات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM