اب معیشت کی خبر لیں

سیاست ایک بے رحم کھیل ہے۔اس کھیل کے دوران جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا نے کیلئےمخصوص بیانیہ تراشہ جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عمران خان نے اس کھیل میں اپنے حریفوں کو تھکا دیا ہے اور خود بہت حد تک بند گلی سے نکل آئے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں سے نکلنے کا مشروط اعلان کر کے سیاسی عدم استحکام کی تلوار پھر لٹکا دی ہے۔تاہم پنڈی جلسہ کے اختتام کے بعد ملک میں جاری سیاسی افراتفری کسی حد تک تھم چکی ہے۔

پاکستان کی فوج میں قیادت کی تبدیلی کا عمل انتہائی احسن انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچ چکا ہے، جو دھول اڑائی جا رہی تھی، اب بیٹھ گئی ہے۔میاں نواز شریف اہم فیصلے کرنے کے بعد اپنی فیملی کے ہمراہ یورپ کی سیر پر ہیں،وزیراعظم پاکستان کے دورے بھی مسلسل جاری ہیں۔ عمران خان نے بڑی سمجھ داری کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے’’یوٹرن‘‘لیا ہے۔

 انہوں نے نہ صرف آرمی چیف کی تقرری کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ دھرنے کا پروگرام ملتوی کرکے نئی اسٹیبلشمنٹ کو مثبت پیغام دینے کی کوشش بھی کی ہے،اس اقدام کو اگر سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پی ڈی ایم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ انہیں اشتعال دلانے کیلئے مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ نے جو بیانات دیے تھے حیرت انگیز طور پر عمران خان نے ان پر مشتعل ہونے کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے اپنی مرضی کی حکمتِ عملی طے کی۔

پی ڈی ایم کی وسیع الاتحاد حکومت نے عمران خان کو ایک کونے میں دھکیلنے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے اپنی حکمت عملی سے خود کو تنہا ہونے سے بچا لیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گزشتہ مہینوں میں سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر رہی ہے لیکن اس سے زیادہ کشیدگی 90 کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین تھی۔ ان کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں کی خبریں آج بھی اخبارات کی فائلوں میں محفوظ ہیں۔ اس وقت اگر سوشل میڈیا کی طاقت ان دونوں رہنماؤں کے پاس ہوتی تو شاید اس لڑائی کی حدت آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ۔

تاہم جس طرح ان دونوں رہنماؤں نے تاریخ کے جبر سے سبق سیکھا اور میثاقِ جمہوریت جیسی نادر اور تاریخی دستاویز پر دستخط کیے، آج پھر اسی سیاسی فہم و فراست کی ضرورت ہے۔عمران خان ایک مضبوط اعصاب کی حامل شخصیت ہیں۔انہوں نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران جس طرح اپنا ایک بیانیہ تشکیل دیا اور جس طرح اس بیانیے کی ترویج میں لگے رہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس اعصابی جنگ میں پی ڈی ایم کے دام میں نہیں آئے۔ انہیں اب اپنی صلاحیتوں کو ملک کی بہتری کے لیے استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ ملکی معیشت جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس سے نمٹنا اکیلی پی ڈی ایم کے بس کی بات نہیں۔ انہی کالموں میں کئی بار اس حقیقت کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں زرِ مبادلہ کے ذخائر میں شدید کمی دیکھی گئی ہے۔

 سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملک کے ڈیفالٹ کی طرف جانے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت سے بجا طور پریہ پوچھا جانا چاہیے کہ وہ جس ایجنڈے پر حکومت میں آئے تھے، وہ ایجنڈا کدھر ہے؟ملک میں خطِ غربت سے نیچے جانے والے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کر کے کاروباری سرگرمیوں کو مزید منجمد کر دیا ہے۔ہم توقع کر رہے تھے کہ اسحاق ڈار اپنی جادوگری دکھائیں گے اور ڈالر کنٹرول کیا جائے گا لیکن ڈالر کی قیمت کم تو کیا ہونی تھی،ڈالر مارکیٹ سے ناپید ہو گیا ہے۔وہ والدین جنہوں نے بیرونِ ملک زیر تعلیم اپنےبچوں کی فیسوں کی ادائیگی کرنی ہے وہ ڈالر کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔ابھی سردی شروع نہیں ہوئی اور گیس ملنا بند ہو گئی ہے،صنعتی صارفین تو پہلے ہی کئی مہینوں سے گیس سے محرومی کی وجہ سے اپنی انڈسٹری بند کر چکے تھے، اب گھریلو صارفین بھی اس سے محروم ہوگئے ہیں۔

کیا پی ڈی ایم کا ایجنڈا یہ نہیں تھا کہ وہ مہنگائی کنٹرول کریں گے؟کیا پی ڈی ایم کا یہ دعویٰ نہیں تھا کہ وہ ڈالر کی قیمت نیچے لائیں گے؟کیا پی ڈی ایم نے تیل اور گیس کے نرخوں پر نظر ثانی کا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کدھر ہیں وہ دعوے اور کہاں گئے وہ وعدے؟اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے معیشت کو سنبھالا دینےکیلئے سنجیدہ اقدامات دیکھنے کو نہیں مل رہے۔البتہ یہ خبریں مل رہی ہیں کہ جناب آصف علی زرداری پنجاب پر سیاسی حملہ کرنے کی تیاری کر چکے ہیں ،جہاں چوہدری پرویز الٰہی بڑی دلیری سے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور علی الاعلان ان کا ساتھ دینے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔اب شہباز حکومت کے پاس نواز شریف کے علاوہ کوئی ترپ کا پتا نہیں جو وہ کھیل سکیں۔

ایک سیاسی تجزیہ کار کے طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کو اپنی ساکھ کی حفاظت کیلئے موجودہ حالات میں پاکستان کا رُخ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ شہباز حکومت کے اقدامات کے باعث اب بہت دیر ہوچکی ہے۔نواز شریف کے اگر پاکستان آنے کے باوجود ن لیگ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکی تو یہ ایک بڑے سیاسی لیڈر کےلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا جو پاکستانی سیاست کیلئے کسی طور بھی مفید نہیں۔ معیشت کی ڈوبتی نبضوں کو صرف ایک ہی صورت میں بحال کیا جا سکتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات فوری طور پر نصف کردے،غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے قرض لینا بند کیا جائے،مراعات یافتہ طبقے پر ٹیکس کی بلاجواز چھوٹ ختم کی جائے اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جائیں۔جہازی سائز کابینہ اگر اسی طرح رہی،حکومتوں کے شاہانہ اخراجات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ن لیگ کو آئندہ انتخابات میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید خبریں :