صحت و سائنس
06 دسمبر ، 2022

آج کل بیشتر افراد کی وہ پسندیدہ غذا جو دماغ کے لیے نقصان دہ

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

موجودہ عہد میں زیادہ تر افراد بازار میں دستیاب غذاؤں کو کھانا پسند کرتے ہیں مگر یہ عادت دماغی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل جاما نیورولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال دماغی تنزلی (ڈیمینشیا) کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر روزانہ کی 20 فیصد سے زیادہ کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں کے ذریعے حاصل کی جائیں تو دماغی تنزلی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اوسطاً ایک فرد روزانہ 2 ہزار کیلوریز پر مبنی غذا کو جزوبدن بناتا ہے تو یہ مقدار 400 کیلوریز کے قریب بن جاتی ہے۔

اکثر ایک برگر میں ہی 500 سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں۔

اس تحقیق میں براز یل سے تعلق رکھنے والے 10 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی غذائی عادات کا جائزہ 10 سال تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں مجموعی دماغی تنزلی کی رفتار دیگر کے مقابلے میں28 فیصد زیادہ بڑھ جاتی ہے جبکہ اہم دماغی افعال کی تنزلی کا عمل 25 فیصد تیز ہوجاتا ہے۔

برازیل میں زیادہ تر افراد دن بھر کی 25 سے 30 فیصد کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ یہ غذا انسانی صحت کے لیے ہر طرح سے نقصان دہ ہے کیونکہ ان میں چینی، نمک اور چکنائی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

یہ تینوں ہی جسم میں ورم کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں مگر سب سے بڑا خطرہ جسم اور دماغ کو لاحق ہوتا ہے۔

جولائی 2022 کے شروع میں ساؤتھ آسٹریلیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ چربی یا چکنائی والی ٖغذا کا استعمال صرف جسمانی وزن میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ ایسی غذائیں دماغی صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

اس تحقیق میں زیادہ چربی والی غذاؤں، ذیابیطس اور دماغی تنزلی کے درمیان واضح تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق کے دوران چوہوں کو 30 ہفتوں تک زیادہ چربی والی غذا کا استعمال کرایا گیا تھا اور دریافت ہوا کہ جسمانی وزن میں اضافے سے دماغی افعال پر بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔

تحقیق کے دوران 8 ہفتوں کی عمر کے چوہوں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا، ایک گروپ کو روایتی غذا استعمال کرائی گئی جبکہ دوسرے کو زیادہ چربی والی غذا دی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ چربی والی غذا کھانے والے چوہوں کا جسمانی وزن بہت زیادہ بڑھ گیا، انسولین مزاحمت بڑھ گئی جبکہ دماغی حجم بھی سکڑنے لگا۔

محققین نے بتایا کہ ایسے شواہد میں اضافہ ہورہا ہے جو موٹاپے اور ذیابیطس کو الزائمر امراض سے منسلک کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 55 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ ذیابیطس سے متاثر ہونے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM