Time 14 فروری ، 2023
صحت و سائنس

جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے ورزش کرنے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

ورزش ہر ایک کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے مگر اس کے کرنے کا بہترین وقت کونسا ہوتا ہے؟

اس بات کا تعین کرنا تو آسان نہیں مگر جسمانی وزن میں کمی یا اضافی چربی کو گھلانا چاہتے ہیں تو صبح کے وقت ورزش کرنا عادت بنالیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ اور ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت ورزش کرنے سے میٹابولزم زیادہ متحرک ہوتا ہے جس سے چربی گھلانے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق میں چوہوں پر تجربات کے دوران دریافت کیا گیا کہ دوپہر یا شام کے مقابلے میں صبح ورزش کرنے سے پیٹ اور کمر کے اردگرد کی اضافی چربی کو گھلانے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ غذا جو بھی ہو مگر صبح ورزش کرنے سے جسمانی وزن میں کمی آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ دن کے مختلف اوقات میں جسمانی سرگرمیوں سے جسم پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ہماری جسمانی گھڑی اس حوالے سے اثرات مرتب کرتی ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ چربی گھلانے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے کے لیے شام کے مقابلے میں صبح ورزش کرنا بہتر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورزش کا درست وقت جسمانی توانائی کے توازن اور صحت کے لیے اہم ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی تصدیق ہوسکے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل PNAS میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل نومبر 2022 میں نیدرلینڈز کے لائیڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دوپہر سے آدھی رات کے درمیان کسی وقت بھی ورزش کرنے سے انسولین کی مزاحمت کا خطرہ 25 فیصد تک کم کرتا ہے۔

انسولین کی مزاحمت اس وقت ہوتی ہے جب مسلز، چربی اور جگر کے خلیات کو انسولین کے حوالے سے ردعمل میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس کے باعث خون میں گلوکوز کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

اگر خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول میں نہ رکھا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ذیابیطس کا سامنا ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر سے رات کے درمیان جسمانی سرگرمیوں سے جگر میں چربی کی مقدار میں کمی آئی جبکہ انسولین کی مزاحمت بھی گھٹ گئی۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل Diabetologia میں شائع ہوئے تھے۔