Election 2024 Election 2024

دوپہر کی نیند کا بہترین دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟

دوپہر کو زیادہ وقت تک سونے سے ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کا احساس بڑھتا ہے / رائٹرز فوٹو
دوپہر کو زیادہ وقت تک سونے سے ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کا احساس بڑھتا ہے / رائٹرز فوٹو

دوپہر کی نیند یا قیلولہ صحت کے لیے کس حد تک مفید ہے یا اس سے کوئی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

اسی طرح کیا دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونے سے رات کی نیند تو متاثر نہیں ہوتی؟

ان سوالات کے جوابات سادہ نہیں بلکہ کچھ پیچیدہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیشتر افراد اوسطاً دوپہر میں ایک گھنٹے سونے کے عادی ہوتے ہیں اور یہ بہت زیادہ دورانیہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک گھنٹے کے قیلولے کے بعد جاگنے پر لوگ خود کو زیادہ نڈھال محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت تک گہری نیند کے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں، جس کے دوران جاگنے سے ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔

تو کتنی دیر کا قیلولہ کرنا بہتر ہوتا ہے؟

اگر آپ دوپہر کی نیند کے بعد چاق و چوبند بیدار ہونا چاہتے ہیں تو اس کا دورانیہ مختصر ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق 20 سے 30 منٹ کا قیلولہ بہترین ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قیلولہ کا وقت رات کی نیند کے حوالے سے بھی اہم ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر آپ دوپہر کو کچھ دیر تک سونا چاہتے ہیں تو ایسا رات کی نیند کے وقت سے کم از کم 8 سے 9 گھنٹے پہلے کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر افراد کے لیے دن میں 2 بجے کا وقت کچھ دیر کی نیند کے لیے مناسب ہوتا ہے۔

قیلولہ کے فوائد

مختصر وقت کا قیلولہ صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔

دوپہر کی مختصر نیند سے جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے، مزاج خوشگوار ہوتا ہے جبکہ توجہ مرکوز اور کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

مگر یہ خیال رہے کہ دوپہر کی نیند کو رات کی نیند کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ قیلولہ سے رات کی اچھی نیند کے فوائد میں اضافہ ہوتا ہے مگر دن میں گہری نیند سے صحت کو رات جیسا فائدہ نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوپہر کی نیند سے رات کے وقت نیند کا دورانیہ متاثر ہوتا ہے تو پھر قیلولے کو اپنے معمول سے نکالنے پر غور کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

مزید خبریں :