Geo News
Geo News

Time 11 اگست ، 2023
صحت و سائنس

وہ غذائیں جو آپ کے پھیپھڑوں کو دمہ جیسے مرض سے تحفظ فراہم کر سکتی ہیں

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

دمہ بہت تکلیف دہ اور دائمی مرض ہوتا ہے جس کا ابھی کوئی علاج دستیاب نہیں بلکہ اس کی علامات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

اس کے شکار افراد کو سانس کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سے خود کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

اب انکشاف ہوا ہے کہ چند غذائیں پھیپھڑوں کو صحت مند رکھ کر دمہ اور اس عضو سے جڑے دیگر دائمی امراض سے تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل ای آر جے اوپن ریسرچ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن K سے بھرپور غذاؤں کا استعمال پھیپھڑوں کو صحت مند رکھتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسم میں وٹامن K کی کمی سے پھیپھڑوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں جبکہ دمہ اور chronic obstructive pulmonary disease (سی او پی ڈی) سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ وٹامن سبز پتوں والی سبزیوں جیسے پالک، ساگ اور بروکولی میں کافی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔

اسی طرح گائے کی کلیجی، مرغی کے گوشت، خشک آلو بخارے اور نرم پنیر میں بھی یہ وٹامن مناسب مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اس تحقیق سے قبل وٹامن K اور پھیپھڑوں کی صحت کے درمیان تعلق پر زیادہ کام نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ وٹامن خون کو جمانے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ دل اور ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی اسے اہم سمجھا جاتا ہے، مگر وٹامن K اور پھیپھڑوں کے درمیان تعلق کا زیادہ جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہماری تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ وٹامن K پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس تحقیق میں 24 سے 77 سال کی عمر کے 4 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

ان افراد کے پھیپھڑوں کے افعال کا جائزہ لیا گیا جبکہ سانس کا ٹیسٹ کیا گیا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ سانس لینے اور چھوڑنے کے دوران کتنی ہوا پھیپھڑوں میں جاتی ہے یا کتنی آسانی سے لوگ ہوا کو پھیپھڑوں سے خارج کرتے ہیں۔

ان افراد کے خون کے نمونے بھی حاصل کیے گئے جبکہ مجموعی صحت اور طرز زندگی کے بارے میں جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ جسم میں وٹامن K کی کمی کے باعث لوگوں کے پھیپھڑوں کے افعال بھی متاثر ہوتے ہیں اور ان میں دمہ اور سی او پی ڈی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ وٹامن K اور پھیپھڑوں کی صحت کے درمیان تعلق کی وضاحت ہو سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ وٹامن K کے زیادہ استعمال سے پھیپھڑوں کے افعال بہتر ہوتے ہیں یا نہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق 19 سال یا اس سے زائد عمر کے مردوں کو روزانہ 120 مائیکرو ملی گرام جبکہ خواتین کو 90 مائیکرو ملی گرام وٹامن K غذا کے ذریعے جسم کا حصہ بنانا چاہیے۔

محققین نے بتایا کہ صحت کے لیے مفید اور متوازن غذا سے صحت بہتر ہوتی ہے اور پھیپھڑوں کو بھی صحت مند رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی سے گریز اور ورزش بھی کرنی چاہیے۔

محققین کی جانب سے اب وٹامن K سپلیمنٹس کے کلینیکل ٹرائل پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ دل، ہڈیوں اور پھیپھڑوں کی صحت پر اس کے اثرات کا تجزیہ کیا جا سکے۔