15 اپریل ، 2012
بنوں … بنوں جیل پرشدت پسندوں کے حملے میں فرار ہونے والے 406 قیدیوں میں سے 37 قیدی واپس آگئے جبکہ 6 کو کرک سے گرفتار کرلیا گیا۔ مفروروں میں سابق صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث مجرم سمیت پھانسی گھاٹ کے 22 قیدی بھی شامل ہیں۔بنوں میں سینٹرل جیل پر شدت پسندوں نے رات ڈیڑھ بجے دھاوا بولا۔جیل حکام کے مطابق شدت پسند 8 سے 9 گاڑیوں میں سوارتھے۔ انہوں نے بموں سے حملہ کرکے جیل کا مرکزی دروازہ توڑا اور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔حملہ آوروں نے سب سے پہلے پھانسی گھاٹ کے قیدیوں کی بیرک کا تالا توڑا۔ بیرک میں 23 قیدی موجود تھے جن میں سے 22 فرار ہوگئے۔ ان میں سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں ملوث قیدی عدنان رشید بھی شامل ہے۔ بعد میں حملہ آور بڑی بیرک کی طرف گئے اور فائرنگ کرکے تالے توڑدیئے۔ یہاں سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تعداد 384 بتائی جاتی ہے۔جیل سپرنٹنڈنٹ زاہد خان کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد 300 سے 500 تھی جبکہ جیل میں 140 اہل کار موجود تھے۔ حملے میں 7 قیدی اور جیل اہل کار زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد پولیس ، فوج اور ایف سی کے جوانوں نے علاقے کی ناکا بندی کرلی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ آئی جی پولیس اکبر خان ہوتی اور سیکریٹری داخلہ اعظم خان ہوتی بنوں پہنچ چکے ہیں جہاں جیل حکام کے ساتھ ان کا اجلاس جاری ہے۔