پنجاب، پنجابی ثقافت اور اسلم کمال

Punab Punjabi Sakhawat Aur Aslam Kamal

پنجاب کو 5دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے، ہڑپہ کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے، ایک ہزار سال پہلے بابا فرید گنج شکرؒ نے سلوک و معرفت کا اپنا پیغام پنجابی زبان کے ذریعے پہنچایا۔

حکومت پنجاب نے پرائیڈ آف پنجاب کا اعلان کر کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی کی ہے جو خوش آئند ہے، مزید برآں پنجابی اور سرائیکی ادب کے ماسٹرز میں پوزیشنز لینے والے طلبہ وطالبات کو بھی ٹیلنٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر کی خدمات قابل قدر ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب چند روز میں پنجاب کے ان جلیل القدر سپوتوں کو جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کیا، یہ ایوارڈ دیں گے اور ایوارڈ کے ساتھ ہر شخصیت کو تین لاکھ روپے بھی دیے جائیں گے،ان شخصیات میں اسلم کمال، انور مسعود، منو بھائی، مصطفےٰ قریشی، عارف لوہار، سید افضل حیدر، فخر زماں اور شاکر شجاع آبادی شامل ہیں۔

اس ایوارڈ کے اجراء کو پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے سربراہ اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر اقبال چاؤلہ نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی دسویں جماعت تک پنجابی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔

خط کمال کے موجد،مصور اقبال اور مصور فیض کہلانے والے اسلم کمال سے ہماری اس حوالے سے ایک نشست ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ شاعر مشرق علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کی شاعری کو پینٹ کرنے والے دنیا کے واحد مصور ہیں۔

انہوں نے ایک انتہائی دلچسپ بات بتائی کہ اردو شاعری کے ان دونوں بڑے ناموں کا تعلق پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے ہے، دونوں کی مادری زبان پنجابی ہے اور دونوں کی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں گزرا، دونوں ہی شاعری کے حوالے سے عالمی سطح پر معروف ہیں اور ان دونوں کی شاعری کو پینٹ کرنے والا مصور یعنی وہ خود بھی ایک ہی ہیں جن کا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے، ان کی زندگی کا بڑا حصہ بھی لاہور میں ہی گزرا ہے ،ہم اتفاقات کے اس تسلسل پر کافی حیران ہوئے۔

اسلم کمال نے بتایا کہ حکومت پنجاب کا یہ اقدام لائق تحسین ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے فنون لطیفہ سے منسلک افراد جو اپنے شعبے میں سرکردہ ہیں کی حوصلہ افزائی کی جائے، اسلم کمال کےحوالے سے حسن نثار کہتے ہیں کہ وہ برصغیر میں اپنے کام کے حوالے سے واحد مصور ہیں، جن شعبوں میں انہوں نے کام کیا، ان میں کسی اور پاکستانی مصور کا کام نہیں ہے۔

ڈاکٹر وحید قریشی کے مطابق وہ ادب دوست مصور ہیں، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے تخمینے کے مطابق اسلم کمال سن 2000ءتک بیس ہزار کتابوں اور رسائل کے سرورق بنا چکے تھے، ان کے سرورق کی نمائش 1996ء میں ہوئی جو دنیا بھر میں اس حوالے سے واحد نمائش تھی۔

کلام اقبال کی مصوری پر ان کا کام حیرت انگیز ہے اور ان کی زندگی میں ہی ایوان اقبال لاہور، ایوان قائداسلام آباد اور فارمیسی کالج پنجاب یونیوسٹی میں گیلریاں قائم کی جا چکی ہیں۔

اسلم کمال نے اس وقت ہمیں مزید حیران کیا جب انہوں نے بتایا کہ فیض احمد فیض کی شاعری کو بھی انہوں نے انہی کے ایماء پر پینٹ کیا اور سال فیض 2011ء کو اسلم کمال کی مصوری کے ذریعے دنیا بھر میں منایا گیا۔