میلہ بہاراں اور زندہ دلانِ لاہور

Maila Baharan Aur Zinda Dilaan E Lahore

گزشتہ ایک دہائی سے جاری دہشت گردی کی لہر نے لوگوں کو جہاں فرسٹریشن میں مبتلا کر رکھا ہے، وہاں ثقافتی سرگرمیاں بھی ماند پڑ گئی ہیں، ایسے میں پنجاب حکومت کے ایماء پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر نے میلہ بہاراں کا انعقاد کر کے گویا بارش کے پہلے قطرے والا کام کیا ہے اور زندہ دلان لاہور نے مسلسل 7دن تک اس میلے میں بھرپور شرکت کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

میلہ 13مارچ سے19 مارچ تک جاری رہا، اس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامی گرامی شخصیات کے ساتھ عام لوگوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی، میلے میں تصویری نمائش، موسیقی کی محافل، فلم فیسٹیول، کتاب میلہ اور پنجاب کے روایتی کھانوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔

فلم فیسٹیول میں ہیر رانجھا، ملنگی، کرتار سنگھ، محبتاں سچیاں، چوڑیاں، شیر خان اور مجاجن کی بڑی سینما اسکرین پر نمائش کی گئی، جن میں اداکارہ شبنم، بہار بیگم، نشو بیگم، میرا، مسرت شاہین، دردانہ رحمان، نرگس، مدیحہ شاہ، ادکار فیصل رحمان، غلام محی الدین، علی اعجاز، داؤد بٹ، ذوالفقار عطرے، سید نور اور دیگر نے شرکت کی۔

موسیقی کی محافل میں سائیں ظہور احمد، عارف لوہار، شوکت علی، عذرا جہاں، ندیم عباس لونے والا، حنا نصراللہ، عدیل برکی، فضل جٹ اور صائمہ اختر نے پرفارم کیا، پلاک کی سربراہ ڈاکٹر صغرا صدف نے بتایا کہ میلے میں پاکستان میں یونیسکو کی نمائندے وبیکی جینسن، لاہور کے فرنچ سینٹر کے ڈائریکٹر سٹیفن گیلیا، بابا محمد یحییٰ خان، شعیب بن عزیز، ڈاکٹر عمر عادل، کیپٹن عطا محمد خان، منصور آفاق، پروین سجل اور دیگر نمایاں افراد بھی شریک ہوئے۔

میلے کا افتتاح پنجاب کے وزیر اطلاعات میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کیا، میں نے میلے میں اپنی بیٹی فاطمہ کے ہمراہ بہت وقت گزارا، فاطمہ کے لیے یہ سب بہت عجیب تھا کیونکہ ہمارے بچے اب ان میلوں اور ثقافتی سرگرمیوں سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں، جب میں ان کو لاہور کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے بارے میں بتاتا ہوں جو صرف 15،20برس پہلے تک ہر گلی محلے کا حصہ تھی تو وہ حیرت سے مجھے تکتی رہتی ہے یہی وجہ تھی کہ اس کو خصوصی طور پر اس میلے میں لے کر گیا جہاں اس دھرتی کے اصل نقوش کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

مجھے بتایا گیا کہ رواں ماہ کی 27تا 29 تاریخ میلہ چراغاں بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔

مصنف صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں