-----

ڈان لیکس: ہمیں سب کچھ جاننے کی ضرورت نہیں

Dawn Leaks We Do Not Need To Know Everything

ان دنوں بظاہر ملک کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار، لوڈشیڈنگ، پانی کی کمی یا بنیادی ضرویات کی فراہمی نہیں بلکہ " ڈان لیکس " ہیں۔

ڈان لیکس کا معاملہ شروع ہوتے ہی میڈیا خصوصی طور پر الیکڑانک میڈیا کو خوب مرچ مصالحہ مل گیا۔ مگر جب یہ شور ختم ہونے لگا تو ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے کو فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے جب ٹوئٹ کے ذریعے مسترد کیا تو ایک نئی بحث نے جنم لے لیا۔

آئی ایس پی آر کی مذکورہ ٹوئٹ کے فوراً بعد وزیراعظم اور آرمی چیف کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے مندرجات تو سامنے نہیں آئے لیکن وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے بعد سویلین بالادستی کے حصول کی خبر سامنے ضرور آئی۔

میرے خیال میں اب وقت ہے کہ ہم سویلین بالادستی کو قبول کریں، جس کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اسی کو آئین اور قانون کے تحت معاملات چلانے کا حق ہے۔ لیکن اب وقت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ کون سے قومی سلامتی کے معاملات کو قوم کے سامنے لانا چاہیے اور کون سے معاملات کو نہیں۔

ڈان اخبار میں خبر شایع ہونے کے پاک فوج کا ردعمل سامنے آیا تو حکومت نے اس وقت کے وزیراطلاعات پرویز رشید کو فوری عہدے سے ہٹا کر انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کی رپورٹ پر وزیراعظم ہاوس سے حکم جاری ہوا جسے پاک فوج نے فوری ردعمل کے ذریعے مسترد کر دیا۔

ڈان لیکس نے حکومت اور فوج کو آمنے سامنے کھڑا کردیا جب کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ بات بھی قومی سلامتی کو بری طرح متاثر کرتی ہے کہ کوئی ادارہ اور حکومت آمنے سامنے آجائیں۔ حکومت کا کام معلامات کو سنبھالنا ہوتا ہے لیکن آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو داد دینی چاہیے جنہوں نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس کو حل کرنے کی طرف قدم اٹھایا اور ٹویٹ کو واپس لے کر معاملے کو ختم کرنے کا عندیہ دیا۔ کئی لوگوں کی رائے ہے کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، اس کی چنگاری کہیں نہ کہیں دھک رہی ہے جس کو مکمل بجھانے کی ضرورت ہے۔

میرے خیال میں معاملہ کوئی بھی ہو اس کو سمیٹ دینا چاہیے، اداروں مسائل جتنے بھی بڑے ہوں یا اختلاف جیسے بھی ہوں انہیں چوراہوں کے بجائے بند کمروں میں افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔ اداروں کو بھی اپنی رائے حکومت کے گوش گزار کرنے کے لیے حکومتی چینلز کا استعمال کرنا چاہیے۔ قومی سلامتی کا مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا واحد یہی راستہ ہے۔