امیر حکومتِ ترکی کے غریب عوام

ترکی نے 2002میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے 2012ء تک مسلسل ترقی کا سلسلہ جاری رکھا اور یہ ملک دیکھتے ہی دیکھتے چند برسوں کے اندر اندر دنیا کے سولہویں بڑے اقتصادی ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔

اس عرصے کے دوران ترکی کی فی کس آمدنی میں بھی زبردست اضافہ ہوا جس نے ترکوں کے معیار زندگی کو یورپی ممالک کا ہم پلہ بنانے میں بڑا نمایا ں کردار ادا کیا۔ اس لیے آق پارٹی کے اُس دور کو سنہری دور کے طور پریاد کیا جاتا ہے۔

 آق پارٹی کے اقتدارمیں آنے سے قبل 1989ء میں ترکی کی فی کس آمدنی ایک ہزار 979ڈالر تھی جو 2001ء تک 2 ہزار 503ڈالر تک بہ مشکل پہنچی تھی لیکن آق پارٹی کے دور میں فی کس آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا اور 2012ء تک فی کس آمدنی گیارہ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی جس نے ترک باشندوں کی زندگی تبدیل کرکے رکھ دی ۔

 اس سے قبل غربت میں زندگی بسر کرنے والے ترک باشندوں نے سب سے پہلے پرانے ماڈل کی گاڑیوں کی جگہ نئے ماڈل کی گاڑیاں خریدیں اور پھر نئے رہائشی Conceptسے متاثر ہو کر بلند و بالا عمارتوں میں رہائش اختیار کر نے کو اپنا اسٹیٹس سمبل بنالیا۔

اگرچہ صدر ایردوان نے اپنی کابینہ میںبہترین اور نامور بیوروکریٹس کو وزیر نامزد کیا تھا لیکن یہ وزرا صدر ایردوان کی توقعات کے مطابق پرفارمنس نہ دےسکے جس کے نتیجے میں صدر نے کئی بار وزراء اور خاص طور پر وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے گورنر کو تبدیل بھی کیا لیکن اس کے باوجود یہ وزرا ملک کی اقتصادیات کو بہتر بنانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے بلکہ ملک کی اقتصادی صورتِ حال دگر گوں ہوتی جا رہی ہے۔

 اگرچہ ترکی برآمدات ، پیداوار ، سیاحت اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں ہر ماہ نئے سے نیا ریکارڈ قائم کررہا ہے لیکن قائم ہونے والے یہ ریکارڈ ترک عوام کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث بننے کی بجائے عوام کے لیے بڑی بے چینی اور اذیت کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ ترک لیرے کی قدرو قیمت میں مسلسل کمی آتی جا رہی ہے اور افراطِ زر کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ترکی کی کرنسی ’’لیرا‘‘ گزشتہ ایک سال سے ڈالر کی آگ میں جھونکی جا رہی ہے لیکن ڈالر کی اس آگ پر حکومتِ وقت کے کئی ایک اقدامات کے باوجود آج تک قابو نہیں پایا جاسکا ۔ ترکی میں مہنگائی اور افراطِ زر کی شرح میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی اونچی اڑان ہی ہے۔

اسی اونچی اڑان کے نتیجے میں 2012ء میں گیارہ ہزار ڈالر تک پہنچنے والی فی کس آمدنی اب 2022ء میں کم ہوتے ہوئے سات ہزار ڈالر سے بھی نیچےگر چکی ہے ۔ دنیا میں ترکی ایسا واحد اور انوکھا ملک ہے جو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے اور ریکارڈ برآمدات اور سیاحت کے شعبوں سے آمدنی حاصل کرنے کے باوجود فی کس آمدنی کے لحاظ سے تنزلی کی جانب گامزن ہے۔اگرچہ حکومت نے گزشتہ ماہ دسمبرمیں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زبردست اضافہ کیا تھا لیکن ان کی تنخواہوں میں اضافے سے قبل ہی روزمرہ کی اشیا، مکانوں کے کرایوں اور قیمتوں میں کئی گنا اضافے نے تنخواہوں میں اضافے پر پانی پھردیا۔

 اب حکومت ایک بار پھر ملازمین کی تنخواہوں میں چالیس فیصد کے لگ بھگ اضافہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور چار جولائی کو اس کا اعلان کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے لیکن حکومت کے اعلان سے قبل ہی تاجروں نے لوٹ مار کا ایسا بازار گرم کررکھا ہے جس سے حکومت کے تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ غیر موثر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا واحد حل ڈالر کی آگ کو بجھانا اور ترک لیرے کی قدرو قیمت کو مستحکم بنانا ہے ۔ صدر ایردوان مہنگائی اور بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور اس پر قابو پانے کے لیے اپنی سخت گیر پالیسی اور خاص طور پر خارجہ پالیسی میں بھی نرم رویہ اپنانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ 

انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارت اور اسرائیل کے خلاف گزشتہ کئی برس سے بڑا سخت موقف اپنا رکھا تھا اور خاص طور پر 2018ء میں استنبول میں سعودی قونصل خانے کی عمارت میں معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر صدر ایردوان نے براہ راست سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف انگلی اٹھائی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف خراب ہوئے تھے بلکہ سعودی عرب نے سرکاری طور پر ترکی سے اشیاء کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی لیکن اب صدر ایردوان نے سعودی عرب کے ولی عہد کو نہ صرف گلے لگایا ہے بلکہ ان سے ترکی میں سرمایہ کاری کی بھی درخواست کی ہے جس پر شدید تنقید کرتے ہوئے ترکی کی حزبِ اختلاف کے رہنما اور ری پبلکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو نے کہا ہے کہ ڈالروں کی خاطر ایردوان نے سعودی شہزادے کو گلے لگایا ہے۔

ترک عوام اگرچہ صدر ایردوان سے قبل غربت ہی کی زندگی بسر کررہے تھے لیکن ایردوان کے دور میں پر تعیش زندگی کے بعد اب دوبارہ ان کے لیے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنا ناقابلِ قبول ہے ۔ اس وقت ترکی میں 65 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ علاوہ ازیں ساڑھے بارہ ملین افراد حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم سے کم اجرت 236ڈالر پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ عام سرکاری ملازمین کی تنخواہ 400 ڈالر کے لگ بھگ ہےجس سے زندگی بسر کرنا ناممکن ہے۔

 اس مہنگائی اور ڈالر کی قدرو قیمت میں مسلسل اضافے نے صدر ایردوان کی مقبولیت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ۔ اس سے قبل 2018میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ایردوان نے 52 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے لیکن حالیہ سروے کے مطابق ان کی مقبولیت کم ہو کر 30 فیصد رہ گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ایردوان جون 2023ء کے صدارتی انتخابات سے قبل کس طرح ملک میں اقتصادی استحکام قائم کرکے فی کس آمدنی میں اضافہ کرتے ہوئے صدارتی انتخابات میں مقررہ حد پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنے آخری دور کوکامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں؟


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM